سلسلہ احمدیہ — Page 286
۲۸۶ کی شکل میں اس کے سامنے آ جائے گی جسے کھا کر وہ اسی قسم کی ظاہری لذت پائے گا جو وہ دنیا میں نماز ادا کر کے روحانی رنگ میں پاتا تھا مگر درجہ اور کیفیت میں اس سے بہت بڑھ چڑھ کر۔اسی طرح جو روحانی لذت ایک مومن روزہ میں پاتا ہے وہ آخرت میں ایک دوسری قسم کے پھل کی صورت اختیار کر کے اسے جسمانی رنگ میں حاصل ہوگی وعلی ہذا القیاس اس فلسفہ کی تہ میں نکتہ یہ ہے کہ اس دنیا کی روح آخرت کا جسم ہے یعنی جو روح اس دنیا میں انسان کو ملتی ہے وہ آخرت میں جا کر اس کے لئے جسم بن جائے گی اور اس جسم کے اندر سے ایک اور لطیف جو ہر ترقی پاکر اس روحانی جسم کے لئے روح بن جائے گا اس طرح اس دنیا کی روحانی لذتیں آخرت میں جسمانی لذتوں کی صورت اختیار کرلیں گی۔بہر حال حضرت مسیح موعود نے قرآن شریف کی آیات سے ثابت کیا کہ جنت و دوزخ کے انعام یا سزائیں کوئی جدا گانہ چیزیں نہیں بلکہ دنیا کی زندگی ہی کے اچھے یا برے اعمال کا پر تو ہیں جو آخرت میں مجسم صورت اختیار کر کے ظاہر ہو گا۔حضرت مسیح موعود کی اس لطیف تشریح نے جو قرآنی آیات پر مبنی تھی نہ صرف اسلام کے مقدس چہرہ پر سے اس گندے اعتراض کو دور کر دیا کہ اسلام ایک جسمانی لذات والی جنت پیش کرتا ہے بلکہ اخروی زندگی کا نقشہ ہی بدل دیا اور اس کی جگہ ایک نہایت لطیف اور پاکیزہ نقشہ جو اپنے اندر ایک بالکل طبعی کیفیت رکھتا ہے دنیا کے سامنے آ گیا۔حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں:۔اس دن (یعنی آخرت میں ) ہمارے اعمال اور اعمال کے نتائج جسمانی طور پر ظاہر ہوں گے اور جو کچھ ہم اس عالم سے مخفی طور پر ساتھ لے جائیں گے وہ سب اس دن ہمارے چہرہ پر نمودار نظر آئے گا۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے فلا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمُ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنِ لا یعنی کوئی نفس نیکی کرنے والا نہیں جانتا کہ وہ کیا کیا نعمتیں ہیں جو اس کے لئے مخفی ہیں۔سوخدا تعالیٰ نے ان تمام نعمتوں کو خفی قرار دیا جن کا دنیا کی نعمتوں میں نمونہ نہیں۔یہ تو ظاہر ہے کہ دنیا کی السجدة : ١٨