سلسلہ احمدیہ — Page 285
۲۸۵ بڑی سختی کے ساتھ جنت و دوزخ کے معروف اور مشہور نقشے کور دفرمایا اور فرمایا کہ چونکہ جنت و دوزخ کی چیزیں ایسی ہیں کہ اس دنیا میں انسان ان کا تصور تک دل میں نہیں لا سکتا اس لئے خدا نے انسانی ادراک کے مطابق ایک محض تمثیلی نقشہ بیان کر دیا ہے مگر اصل حقیقت اور ہے جو اس تمثیل کے پیچھے مخفی ہے ان حالات میں یہ ہرگز درست نہیں ہو گا کہ قرآن و حدیث کے بعض الفاظ کے ظاہری معنے لے کر جنت و دوزخ کا تصور قائم کیا جاوے۔مگر حضرت مسیح موعود نے صرف اس قدر مجمل بیان پر ہی اکتفا نہیں کی بلکہ قرآن شریف کی دوسری آیات سے استدلال پکڑ کر اگلے جہان کی زندگی کا ایک ایسا نقشہ پیش فرمایا کہ جس سے علم کا ایک بالکل ہی نیا دروازہ کھل گیا۔آپ نے فرمایا کہ قرآن شریف کی متعدد آیات سے معلوم ہوا ہے کہ آخرت کی زندگی دنیا کی زندگی کا ہی ایک تسلسل ہے اور کوئی آزاد اور جدا گانہ زندگی نہیں ہے۔یعنی ایسا نہیں کہ انسان اس دنیا میں اچھے یا برے عمل کرے اور پھر مرنے کے بعد اچانک پردہ اٹھ کر اس کے لئے ایک نئے نظارہ اور نئے ماحول کا آغاز شروع ہو جاوے۔بلکہ اسلام نے آخرت کی زندگی کو اسی دنیوی زندگی کا پر تو اور نتیجہ قرار دیا ہے۔آپ نے فرمایا کہ جو اچھا یا براعمل انسان اس زندگی میں کرتا ہے وہ اس کے ساتھ ایک نہایت مخفی در مخفی رنگ میں بطور سایہ کے پیوست کر دیا جاتا ہے اور پھر مرنے کے بعد یہ خفی سایہ آہستہ آہستہ ایک نظر آنے والی حقیقت کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔گویا انسان کا ہر عمل ایک مخفی پیج ہے اور آخرت کا انعام یا سزا اس بیج سے پیدا شدہ درخت ہے جو آخرت میں کھلے طور پر ظاہر ہو کر نظر آنے لگے گا۔اس تشریح کے ماتحت حضرت مسیح موعود نے بیان فرمایا کہ یہ جو مثلاً جنت میں پھلوں کا ذکر آتا ہے یہ کوئی نئے پھل نہیں ہیں جو اگلے جہان میں آزادانہ طور پر پیدا ہوں گے بلکہ یہ انہی اعمال کا ثمرہ یا مجسمہ ہیں جو ایک انسان اس دنیا میں بجالاتا ہے مثلاً ایک انسان خدا کی رضا کی خاطر نماز پڑھتا ہے اور اسے اس عبادت میں ایک خاص قسم کی روحانی لذت محسوس ہوتی ہے تو اب آخرت کی زندگی میں یہی روحانی لذت اس کے لئے جسمانی اور ظاہری صورت اختیار کر کے ایک پھل