سلسلہ احمدیہ — Page 287
۲۸۷ نعمتیں ہم پر مخفی نہیں ہیں اور دودھ اورا نار اور انگور وغیرہ کو ہم جانتے ہیں اور ہمیشہ یہ چیزیں کھاتے ہیں۔سو اس سے معلوم ہوا کہ وہ چیز میں اور ہیں اور ان کو ان چیزوں سے صرف نام کا اشتراک ہے۔پس جس نے بہشت کو دنیا کی چیزوں کا مجموعہ سمجھا اس نے قرآن شریف کا ایک حرف بھی نہیں سمجھا۔اس آیت کی شرح میں جو ابھی میں نے ذکر کی ہے ہمارے سید و مولا نبی ﷺ فرماتے ہیں کہ بہشت اور اس کی نعمتیں وہ چیزیں ہیں جو نہ کبھی کسی آنکھ نے دیکھیں اور نہ کسی کان نے سنیں اور نہ دلوں میں کبھی گذریں حالانکہ ہم دنیا کی نعمتوں کو آنکھوں سے بھی دیکھتے ہیں اور کانوں سے بھی سنتے ہیں اور دل میں بھی وہ نعمتیں گزرتی ہیں۔پھر فرماتے ہیں:۔قاعدہ کلی کے طور پر یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ موت کے بعد جو جاتیں پیش آنی ہیں قرآن شریف نے انہیں تین قسم پر منقسم کیا ہے اور عالم معاد کے متعلق یہ تین قرآنی معارف ہیں جن کو ہم جدا جدا اس جگہ ذکر کرتے ہیں :۔اوّل یہ دقیقہ معرفت ہے کہ قرآن شریف بار بار یہی فرماتا ہے کہ عالم آخرت کوئی نئی چیز نہیں ہے بلکہ اس کے تمام نظارے اسی دنیوی زندگی کے اظلال و آثار ہیں جیسا کہ فرماتا ہے وَكُلُّ إِنْسَانِ الْزَمْنَاهُ طَائِرُهُ فِي عُنُقِهِ دنیا وَنُخْرِجُ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كِتَابًا يَلْقَاهُ مَنْشُورًا کے یعنی ہم نے اس دنیا میں ہر ایک شخص کے اعمال کا اثر اس کی گردن سے باندھ رکھا ہے اور انہی پوشیدہ اثروں کو ہم قیامت کے دن ظاہر کر دیں گے اور ایک کھلے کھلے اعمال نامہ کی شکل پر دکھا دیں گے۔دوسرا دقیقہ معرفت جس کو عالم معاد کے متعلق قرآن شریف نے ذکر لے اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد، اصفحہ ۳۹۷، ۳۹۸ ۲ بنی اسرائیل: ۱۴