سلسلہ احمدیہ — Page 275
۲۷۵ آپ نے فرمایا کہ خدائی پیشگوئیوں میں بسا اوقات استعارہ کے رنگ میں کلام ہوتا ہے مگر ناسمجھ لوگ اسے حقیقت پر محمول کر لیتے ہیں چنانچہ مسیح و مہدی کے متعلق جو اس قسم کے الفاظ آتے ہیں کہ اس کے دم سے کا فر مریں گے یا یہ کہ وہ صلیب کو توڑے گا اور خنزیر کو قتل کرے گا وغیرہ وغیرہ اس سے کم علم لوگوں نے خیال کر لیا کہ شاید ان الفاظ میں ایک جنگ کرنے والے مصلح کی خبر دی گئی ہے حالانکہ یہ سب استعارے تھے جن سے نشانات اور دلائل کی جنگ مراد تھی نہ کہ تیر و کمان کی جنگ۔چنانچہ اگر ایک طرف مسیح و مہدی کے متعلق اس قسم کے جنگی الفاظ بیان ہوئے ہیں تو دوسری طرف اسلامی پیشگوئیوں میں صراحت کے ساتھ یہ بھی مذکور ہے کہ مسیح کا کام امن کے طریق پر ہوگا اور اس کے زمانہ میں جنگ اپنے ہتھیار ڈال دے گی۔علاوہ ازیں جب قرآن شریف نے اصولی طور پر یہ فیصلہ کر دیا ہے کہ دین کے معاملہ میں جبر جائز نہیں تو اب کسی پیشگوئی کے ایسے معنے کرنا جو اس اصولی تعلیم کے خلاف ہوں ہرگز درست نہیں ہوسکتا۔عقلاً بھی آپ نے بتایا کہ جبر کا طریق نہ صرف فتنہ و فساد کا طریق ہے بلکہ اس کے نتیجہ میں کبھی بھی دلوں کی اصلاح جو دین کی اصل غرض و غایت ہے حاصل نہیں ہوسکتی۔آپ نے فرمایا کہ بے شک جہاد کا مسئلہ سچا اور برحق ہے مگر اصل جہاد نفس کا جہاد اور تبلیغ کا جہاد ہے۔اور تلوار کا جہاد صرف ان حالات میں جائز ہے جبکہ کوئی قوم اسلام کو مٹانے اور مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے نابود کرنے کے لئے ان کے خلاف تلوار اٹھائے۔اس صورت میں بے شک ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ امام وقت کے جھنڈے کے نیچے جمع ہو کر اسلام سے اس خطرہ کو دور کرے اور تلوار کا جواب تلوار سے دے۔مگر یونہی غازی نام رکھ کر کفار کو مارتے پھرنا یا لوگوں کو جبراً مسلمان بنانے کے لئے تلوار اٹھانا اسلام کی تعلیم اور اسلام کی روح اور اسلام کی غرض و غایت سے اسی طرح دور ہے جس طرح ایک بوسیدہ روئیدگی کی بُو تازہ پھولوں کی خوشبو سے دور ہوتی ہے۔موجودہ زمانہ کے متعلق حضرت مسیح موعود نے فرمایا کہ اس وقت نہ صرف وہ حالات موجود