سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 274 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 274

۲۷۴ میں سے ایک قسم ہے اور دوسری جگہ آپ نے دوسری اقسام کا بھی ذکر فرمایا ہے مگر بہر حال آپ نے اس خیال کو سختی کے ساتھ رد فرمایا ہے کہ دل میں گزرنے والے خیالات کا نام ہی الہام ہے اور آپ نے اپنی متعدد کتب میں الہام الہی کی اقسام اور اس کی نشانیاں اور اس کے پر کھنے کے طریقے بھی بیان فرمائے ہیں مگر اس مختصر رسالہ میں ان سارے مضامین کی گنجائش نہیں۔جہاد کی حقیقت:۔ایک اور اہم مسئلہ جس میں موجودہ زمانہ کے مسلمان سخت غلطی میں مبتلا تھے جہاد کا مسئلہ ہے۔مسلمانوں کا عام طور پر یہ خیال ہو رہا تھا کہ دین چونکہ ایک سچائی ہے اس لئے اس کے معاملہ میں جبر کرنا جائز ہے اور یہ کہ اسلام نے دوسری قوموں کے خلاف تلوار اٹھانے کی تحریک کی ہے اور اس کے ساتھ ہی مسلمانوں کا یہ عقیدہ تھا کہ آخری زمانہ میں اللہ تعالیٰ ایک مہدی کو مبعوث کرے گا جو روئے زمین کے تمام کافروں کے ساتھ جنگ کر کے یا تو انہیں مسلمان بنالے گا اور یا تلوار کی گھاٹ اتار دے گا۔حضرت مسیح موعود نے قرآن و حدیث اور عقل خداداد سے اس بات کو ثابت کیا کہ یہ عقیدہ صحیح اسلامی تعلیم کے سراسر خلاف اور دنیا میں سخت فتنہ و فساد کا باعث ہے۔قرآن شریف صاف اور صریح الفاظ میں تعلیم دیتا ہے کہ لَا إِكْرَاهَ فِی الدّین یعنی دین کے معاملہ میں کوئی جبر نہیں ہونا چاہئے اور قرآن وحدیث اور تاریخ ہر سہ سے قطعی طور پر ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے کفار کو تہ تیغ کرنے یا ان کو جبراً مسلمان بنانے کے لئے تلوار نہیں اٹھائی تھی بلکہ کفار کے مظالم اور خونی کارروائیوں سے تنگ آکر محض دفاع کے طور پر تلوار اٹھائی تھی اور مہدی کے متعلق حضرت مسیح موعود نے ثابت کیا کہ یہ خیال قطعاً درست نہیں کہ اسلام نے کسی خونی مہدی کا وعدہ دیا ہے۔آنحضرت ﷺ نے کوئی ایسی خبر نہیں دی۔بے شک آپ نے ایک مہدی کی پیشگوئی فرمائی تھی مگر ساتھ ہی فرما دیا تھا کہ مہدی اور مسیح موعود ایک ہی وجود ہیں اور یہ کہ جنگ کرنا تو در کنار مسیح موعود ایسے زمانہ میں ظاہر ہوگا کہ جو امن کا زمانہ ہوگا اور اس کی جنگ دلائل اور براہین کی جنگ ہوگی نہ کہ نیزہ و تلوار اور تیر و تفنگ کی۔البقرة: ۲۵۷