سلسلہ احمدیہ — Page 276
نہیں جن میں جہاد بالسیف جائز ہوتا ہے بلکہ خدا نے اپنے مسیح کو بھیج کر اس زمانہ میں امن کا سفید جھنڈا بلند کیا ہے۔پس جو شخص اب بھی خونی جہاد کے خیالات کو ترک نہیں کرے گا اس کے لئے ذلت اور نا کا می مقدر ہے۔فرماتے ہیں:۔ایسا گماں کہ مہدی خونی بھی آئے گا اور کافروں کے قتل سے دیں کو بڑھائے گا اے غافلو یہ باتیں سراسر دروغ ہیں بہتاں ہیں بے ثبوت ہیں اور بے فروغ ہیں فرما چکا ہے سید کونین مصطفے عیسی مسیح جنگوں کا کر دے گا التوا جب آئے گا تو صلح کو وہ ساتھ لائے گا جنگوں کے سلسلہ کو وہ یکسر مٹائے گا یہ حکم سن کے بھی جو لڑائی کو جائے گا وہ کافروں سے سخت ہزیمت اٹھائے گا اک معجزہ کے طور سے یہ پیشگوئی ہے کافی ہے سوچنے کواگر اہل کوئی ہے وفات مسیح اور عدم رجوع موتی:۔ایک اور غلط عقیدہ جس کی حضرت مسیح موعود نے اصلاح فرمائی وہ حضرت مسیح ناصری کی حیات کا عقیدہ تھا۔جیسا کہ اوپر بیان کیا جا چکا ہے مسلمانوں میں یہ خیال پیدا ہو گیا تھا کہ حضرت مسیح ناصری فوت نہیں ہوئے بلکہ خدا نے ان کو صلیب کے واقعہ سے بچا کر آسمان پر اٹھا لیا تھا اور وہ آخری زمانہ میں زمین پر دوبارہ نازل ہوں گے۔حضرت مسیح موعود نے قرآن وحدیث سے ثابت کیا کہ یہ عقیدہ بالکل غلط اور باطل ہے بلکہ واقعہ صلیب کے بعد حضرت مسیح اپنے ملک سے نکل کر کشمیر کی طرف آگئے تھے اور وہیں ایک سو بیس سال کی عمر میں اپنی طبعی موت سے فوت ہوئے۔اسی ضمن میں حضرت مسیح موعود نے یہ بھی ثابت کیا کہ یہ خیال اگر حضرت مسیح ناصری فوت بھی ہو چکے ہیں تو پھر بھی خدا انہیں دوبارہ زندہ کر کے دنیا میں واپس لے آئے گا بالکل غلط اور خلاف منشاء اسلام ہے کیونکہ قرآن وحدیث صراحت کے ساتھ یہ تعلیم دیتے ہیں کہ کوئی شخص ایک دفعہ مرکز پھر اس دنیا میں دوبارہ زندہ ہو کر نہیں آسکتا بلکہ دوسری زندگی کے لئے آخرت کا گھر مقرر ہے اس