سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 272 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 272

۲۷۲ ایک ایک لفظ اور ایک ایک حرف خدا کا کلام ہے۔آپ نے بتایا کہ اگر محض دل کے اچھے خیالات کا نام الہام ہو تو اس طرح تو ہر مصنف اور ہر مقرر اور ہر شاعر اور ہر محقق اور ہر سائنسدان ملہم قرار پائے گا کیونکہ اس قسم کے فوری خیالات ہر انسان کے دل پر گزرتے رہتے ہیں بلکہ اس تعریف کے ماتحت ایک چور بھی ملہم سمجھا جائے گا کیونکہ اس کے دل پر بھی بسا اوقات دوسروں کا مال لوٹنے کے لئے بڑے بڑے باریک اور اچھوتے خیالات گزر جاتے ہیں۔غرض آپ نے اپنے تجربہ اور قرآنی آیات و احادیث سے ثابت کیا کہ الہام کی یہ تعریف بالکل غلط ہے اور حقیقی الہام وہی ہے جو خدا کی طرف سے معین الفاظ کی صورت میں انسان تک پہنچتا ہے اور یہ الہام اپنے ساتھ ایک خاص قسم کی شان اور لطافت اور تاثیر رکھتا ہے جولفظوں میں بیان نہیں کی جاسکتی۔چنانچہ حضرت مسیح موعود فر ماتے ہیں:۔الہام کے الفاظ سے اس جگہ یہ مراد نہیں کہ سوچ اور فکر کی کوئی بات دل میں پڑ جائے جیسا کہ جب شاعر شعر کے بنانے میں کوشش کرتا ہے یا ایک مصرع بنا کر دوسرا سو چتا رہتا ہے تو دوسرا مصرع دل میں پڑ جاتا ہے سو یہ دل میں پڑ جانا الہام نہیں بلکہ یہ خدا کے قانونِ قدرت کے موافق اپنے فکر اور سوچ کا ایک نتیجہ ہے اگر صرف دل میں پڑ جانے کا نام الہام ہے تو پھر ایک بدمعاش شاعر جو راستبازی اور راستبازوں کا دشمن اور ہمیشہ حق کی مخالفت کے لئے قدم اٹھاتا اور افتراؤں سے کام لیتا ہے خدا کا ملہم کہلائے گا۔دنیا میں ناولوں وغیرہ میں جادو بیانیاں پائی جاتی ہیں اور تم دیکھتے ہو کہ اس طرح سراسر باطل مگر مسلسل مضمون لوگوں کے دل میں پڑتے ہیں۔پس کیا ہم ان کو الہام کہہ سکتے ہیں؟ بلکہ اگر الہام صرف دل میں بعض باتیں پڑ جانے کا نام ہے تو ایک چور بھی مہم کہلا سکتا ہے کیونکہ وہ بسا اوقات فکر کر کے اچھے اچھے طریق نقب زنی کے نکال لیتا ہے اور عمدہ عمدہ تدبیریں ڈا کہ مارنے اور خون ناحق کرنے کی اس کے دل میں گزر جاتی