سلسلہ احمدیہ — Page 271
۲۷۱ میں یہ خیال پیدا ہو گیا تھا کہ آنحضرت ﷺ کے بعد ہر قسم کی نبوت کا دروازہ بند ہو چکا ہے اور اب کوئی شخص نبوت کے مقام پر فائز نہیں ہو سکتا۔اس خیال نے مسلمانوں کی عقل پر ایسا پردہ ڈال دیا تھا کہ وہ امت محمدیہ میں نبوت کے اجراء کو آنحضرت ﷺ کے لئے باعث ہتک اور اسلام کے لئے موجب ذلت خیال کرنے لگے تھے حضرت مسیح موعود نے دلائل کے ساتھ ثابت کیا کہ یہ عقیدہ بالکل خلاف تعلیم اسلام اور خلاف عقل ہے۔بلکہ حق یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کسی ایسے نبی کا آنا جو آپ کے خادموں میں سے ہو اور آپ کی وساطت سے نبوت کا انعام پائے اور اس کی بعثت کی غرض اسلام کی تجدید اور اسلام کی اشاعت ہو آنحضرت ﷺ کی شان کو گرانے والا نہیں بلکہ بلند کرنے والا اور اسلام کی اکملیت کو ظاہر کرنے والا ہے۔مگر افسوس ہے کہ ابھی تک ہمارے مخالفین نے اس نکتہ کی قدر نہیں کی ورنہ وہ حضرت مسیح موعود پر اعتراض کرنے کی بجائے آپ کے شکر گزار ہوتے کہ آپ نے اس حقیقت کا انکشاف کر کے مسلمانوں کی جھکی ہوئی گردنوں کو بلند کر دیا۔چونکہ اس مضمون پر ایک مفصل نوٹ اوپر گزر چکا ہے اس لئے اس جگہ صرف اس قدر اشارہ پر اکتفا کر کے ہم اگلے سوال کو لیتے ہیں۔الہام کی حقیقت :۔سلسلہ الہام کے متعلق مسلمانوں کی اس غلطی کا ذکر اوپر گزر چکا ہے کہ ان کا ایک معتد بہ حصہ اس زمانہ میں الہام کے دروازہ کو بند قرار دیتا تھا۔اس کے علاوہ الہام کے متعلق مسلمانوں کا ایک فریق اس غلطی میں بھی مبتلا تھا کہ الہام الفاظ کی صورت میں نہیں ہوتا بلکہ وہ اچھے خیالات جو انسان کے دل میں اچانک گزر جاتے ہیں وہی الہام ہیں۔حضرت مسیح موعود نے اس خیال کی سختی سے تردید فرمائی اور فرمایا کہ الہام اور وحی کی گوکئی اقسام ہیں مگر زیادہ ارفع اور زیادہ پختہ قسم لفظی الہام ہے جو خدا کی طرف سے اسی طرح انسان تک پہنچتا ہے جس طرح کہ ایک دوسرے شخص کی آواز اس کے کانوں تک پہنچتی ہے۔آپ نے ثابت کیا کہ قرآنی وحی بھی اسی نوع میں داخل تھی چنانچہ سارا قرآن شریف آنحضرت ﷺ پر لفظاً نازل ہوا تھا اور نہ صرف قرآن شریف کے معانی بلکہ اس کا