سلسلہ احمدیہ — Page 273
۲۷۳ نہیں۔ہیں۔تو کیا لائق ہے کہ ہم ان تمام نا پاک طریقوں کا نام الہام رکھ دیں؟ ہرگز الہام کیا چیز ہے؟ وہ پاک اور قادر خدا کا ایک برگزیدہ بندہ کے ساتھ یا اس کے ساتھ جس کو برگزیدہ کرنا چاہتا ہے ایک زندہ اور با قدرت کلام کے ساتھ مکالمہ اور مخاطبہ ہے۔۔۔خدا کے الہام میں یہ ضروری ہے کہ جس طرح ایک دوست دوسرے دوست سے مل کر باہم ہمکلام کرتا ہے اسی طرح رب اور اس کے بندے میں ہم کلامی واقع ہو لے اور اپنا ذاتی تجربہ یوں بیان فرماتے ہیں کہ :۔وحی آسمان سے دل پر ایسی گرتی ہے جیسے کہ آفتاب کی شعاع دیوار پر۔میں ہر روز دیکھتا ہوں کہ جب مکالمہ الہیہ کا وقت آتا ہے تو اول یک دفعہ مجھ پر ایک ر بودگی طاری ہوتی ہے۔تب میں ایک تبدیل یافتہ چیز کی مانند ہو جاتا ہوں اور میری حس اور میرا ادراک اور ہوش گوبگفتن باقی ہوتا ہیں مگر اس وقت میں پاتا ہوں کہ گویا ایک وجود شدید الطاقت نے میرے تمام وجود کو اپنی مٹھی میں لے لیا ہے اور اس وقت احساس کرتا ہوں کہ میری ہستی کی تمام رگیں اس کے ہاتھ میں ہیں اور جو کچھ میرا ہے اب وہ میرا نہیں بلکہ اس کا ہے۔جب یہ حالت ہو جاتی ہے تو اس وقت سب سے پہلے خدا تعالیٰ دل کے ان خیالات کو میری نظر کے سامنے پیش کرتا ہے جن پر اپنے کلام کی شعاع ڈالنا اس کو منظور ہے اور ایسا ہوتا ہے کہ جب ایک خیال۔۔دل میں آیا تو جھٹ اس پر ایک ٹکڑا کلام الہی کا ایک شعاع کی طرح گرتا ہے اور بسا اوقات اس کے گرنے کے ساتھ تمام بدن ہل جاتا ہے۔“ سے اس تحریر میں حضرت مسیح موعود نے الہام کی جو تم بیان فرمائی ہے یہ وحی الہی کی متعدد اقسام اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلده صفحه ۴۳۷ تا ۴۴۰ ۲ برکات الدعا، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۲۲ حاشیہ