سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 211 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 211

۲۱۱ طریق کو اختیار کر کے اور ہمارے ساتھ مباہلہ کے میدان میں قدم رکھ کر اپنی تباہی کا بیج بولیا۔قادیان کے بعض آریہ سماجی حضرت مسیح موعود کے سخت مخالف تھے اور آپ کے خلاف ناپاک پراپیگنڈے میں حصہ لیتے رہتے تھے مگر جب بھی انہیں کوئی تکلیف پیش آتی یا کوئی بیماری لاحق ہوتی تو وہ اپنی کارروائیوں کو بھول کر آپ کے پاس دوڑے آتے اور آپ ہمیشہ ان کے ساتھ نہایت درجہ ہمدردانہ اورمحنانہ سلوک کرتے اور ان کی امداد میں دلی خوشی پاتے۔چانچہ ایک صاحب قادیان میں لالہ بڈھا مل ہوتے تھے جو حضرت مسیح موعود کے سخت مخالف تھے جب قادیان میں منارۃ اسیح بننے لگا تو ان لوگوں نے حکام سے شکایت کی کہ اس سے ہمارے گھروں کی بے پردگی ہوگی اس لئے مینارہ کی تعمیر کو روک دیا جائے۔اس پر ایک مقامی افسر یہاں آیا اور اس کی معیت میں لالہ بڑھامل اور بعض دوسرے مقامی ہندو اور غیر احمدی اصحاب حضرت مسیح موعود کی خدمت میں حاضر ہوئے۔حضرت مسیح موعود نے ان افسر صاحب کو سمجھایا کہ یہ شکایت محض ہماری دشمنی کی وجہ سے کی گئی ہے ورنہ اس میں بے پردگی کا کوئی سوال نہیں اور اگر بالفرض کوئی بے پردگی ہوگی تو اس کا اثر ہم پر بھی ویسا ہی پڑے گا جیسا کہ ان پر۔اور فرمایا کہ ہم تو صرف ایک دینی غرض سے یہ مینارہ تعمیر کروانے لگے ہیں ورنہ ہمیں ایسی چیزوں پر روپیہ خرچ کرنے کی کوئی خواہش نہیں۔اسی گفتگو کے دوران میں آپ نے اس افسر سے فرمایا کہ اب یہ لالہ بڑھامل صاحب ہیں آپ ان سے پوچھئے کہ کیا کبھی کوئی ایسا موقعہ آیا ہے کہ جب یہ مجھے کوئی نقصان پہنچاسکتے ہوں اور انہوں نے اس موقعہ کو خالی جانے دیا ہو اور پھر انہی سے پوچھئے کہ کیا کبھی ایسا ہوا کہ انہیں فائدہ پہنچانے کا کوئی موقعہ مجھے ملا ہو اور میں نے اس سے دریغ کیا ہو۔حضرت مسیح موعود کی اس گفتگو کے وقت لالہ بڑھامل اپنا سر نیچے ڈالے بیٹھے رہے اور آپ کے جواب میں ایک لفظ تک منہ پر نہیں لا سکے۔الغرض حضرت مسیح موعود کا وجود ایک مجسم رحمت تھا۔وہ رحمت تھا اسلام کے لئے اور رحمت تھا اس پیغام کے لئے جسے لے کر وہ خود آیا تھا۔وہ رحمت تھا اس بستی کے لئے جس میں وہ پیدا ہوا اور