سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 210 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 210

۲۱۰ دیوار کھینچ کر آپ کو اور آپ کے مہمانوں کو سخت تکلیف میں مبتلاء کر دیا اور پھر بالآ خر مقدمہ میں خدا نے آپ کو فتح عطا کی اور ان لوگوں کو خود اپنے ہاتھ سے دیوار گرانی پڑی تو اس کے بعد حضرت مسیح موعود کے وکیل نے آپ سے اجازت لینے کے بغیر ان لوگوں کے خلاف خرچہ کی ڈگری جاری کروادی۔اس پر یہ لوگ بہت گھبرائے اور حضرت مسیح موعود کی خدمت میں ایک عاجزی کا خط بھجوا کر رحم کی التجا کی۔آپ نے نہ صرف ڈگری کے اجراء کوفور آر کوا دیا بلکہ اپنے ان خونی دشمنوں سے معذرت بھی کی کہ میری لاعلمی میں یہ کارروائی ہوئی ہے جس کا مجھے افسوس ہے اور اپنے وکیل کو ملامت فرمائی کہ ہم سے پوچھے بغیر خرچہ کی ڈگری کا اجرا کیوں کروایا گیا ہے۔اگر اس موقعہ پر کوئی اور ہوتا تو وہ دشمن کی ذلت اور تباہی کو انتہا تک پہنچا کر صبر کرتا مگر آپ نے ان حالات میں بھی احسان سے کام لیا اور اس بات کا شاندار ثبوت پیش کیا کہ آپ کو صرف گندے خیالات اور گندے اعمال سے دشمنی ہے کسی سے ذاتی عداوت نہیں اور یہ کہ ذاتی معاملات میں آپ کے دشمن بھی آپ کے دوست ہیں۔اسی طرح یہ واقعہ بھی اوپر بیان کیا جا چکا ہے کہ جب ایک خطر ناک خونی مقدمہ میں جس میں آپ پر اقدام قتل کا الزام تھا آپ کا اشد ترین مخالف مولوی محمدحسین بٹالوی آپ کے خلاف بطور گواہ پیش ہوا اور آپ کے وکیل نے مولوی صاحب کی گواہی کو کمزور کرنے کے لئے ان کے بعض خاندانی اور ذاتی امور کے متعلق ان پر جرح کرنی چاہی۔تو حضرت مسیح موعود نے بڑی ناراضگی کے ساتھ اپنے وکیل کو روک دیا اور فرمایا کہ خواہ کچھ ہو میں اس قسم کے سوالات کی اجازت نہیں دے سکتا۔اور اس طرح گویا اپنے آپ کو خطرہ میں ڈال کر بھی اپنے جانی دشمن کی عزت و آبرو کی حفاظت فرمائی۔اسی طرح جب پنڈت لیکھرام حضرت مسیح موعود کی پیشگوئی کے مطابق لاہور میں قتل ہوئے اور آپ کو اس کی اطلاع پہنچی تو گو پیشگوئی کے پورا ہونے پر آپ خدا تعالیٰ کا شکر بجالائے مگر ساتھ ہی انسانی ہمدردی میں آپ نے پنڈت لیکھرام کی موت پر افسوس کا بھی اظہار کیا اور بار بار فرمایا کہ ہمیں یہ درد ہے کہ پنڈت صاحب نے ہماری بات نہیں مانی اور خدا اور اس کے رسول کے متعلق گستاخی کے