سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 190 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 190

۱۹۰ دیدم بعین قلب و شنیدم بگوش ہوش در ہر مکاں ندائے جمال محمد است لے و یعنی میرے جان و دل آنحضرت ﷺ کے حسن خدا داد پر قربان ہیں اور میں آپ کے آل و عیال کے کوچہ کی خاک پر نثار ہوں۔میں نے اپنے دل کی آنکھ سے دیکھا اور ہوش کے کانوں سے سنا ہے کہ ہر کون و مکان میں محمد صلعم ہی کے جمال کی ندا آ رہی ہے۔“ پھر فرماتے ہیں:۔بعد از خدا بعشق محمد محمرم گر کفر این بود بخدا سخت کافرم جانم فدا شود بره دین مصطفی اینست کام دل اگر آید میسرم سے یعنی خدا سے اتر کر میں محمد صلعم کے عشق کی شراب سے متوالا ہورہا ہوں اور اگر یہ بات کفر میں داخل ہے تو خدا کی قسم میں سخت کا فر ہوں۔میرے دل کا واحد مقصد یہ ہے کہ میری جان محمد صلعم کے دین کے رستے میں قربان ہو جائے۔خدا کرے کہ مجھے یہ مقصد حاصل ہو جائے۔“ پھر فرماتے ہیں:۔وہ پیشوا ہمارا جس سے ہے نور سارا نام اس کا ہے محمد دلبر مرا یہی ہے اس نور پر فدا ہوں اس کا ہی میں ہوا ہوں وہ ہے میں چیز کیا ہوں بس فیصلہ یہی ہے وہ دلبر یگانہ علموں کا ہے خزانہ باقی ہے سب فسانہ سچ بے خطا یہی ہے۔آنحضرت ﷺ کے ساتھ حضرت مسیح موعود کی یہ والہانہ محبت محض کاغذی یا نمائشی محبت نہیں تھی بلکہ آپ کے ہر قول و فعل اور ہر حرکت و سکون میں اس کی ایک زندہ اور زبردست جھلک نظر آتی تھی چنانچہ پنڈت لیکھرام کے حالات میں جس واقعہ کا ذکر اسی رسالہ میں او پر گزر چکا ہے وہ اس محبت کی ایک عام اور دلچسپ مثال ہے کہ باوجود اس کے کہ حضرت مسیح موعود نہایت درجہ وسیع القلب اور اشتہار ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء مجموعه اشتہارات جلد اوّل صفحه ۹۳ جدید ایڈیشن کے ازالہ اوہام حصہ اول، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۱۸۵ ے۔قادیان کے آرایہ اور ہم ، روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۴۵۶