سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 189 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 189

۱۸۹ اور بعض اوقات اپنی پیشگوئیوں کا ذکر کر کے فرماتے تھے کہ چونکہ وہ خدا کے منہ سے نکلی ہوئی ہیں اس لئے وہ ضرور پوری ہو کر رہیں گی اور اگر وہ پوری نہ ہوں تو میں اس بات کے لئے تیار ہوں کہ مجھے مفتری قرار دے کر برسر عام پھانسی کے تختہ پر لٹکا دیا جائے تاکہ میرا وجود دوسروں کے لئے باعث عبرت ہو۔اپنے الہام کے قطعی ہونے کے متعلق اپنی ایک فارسی نظم میں فرماتے ہیں۔آں یقینے که بود عیسی را بر کلامی که شد برو القا واں یقین کلیم بر تورات واں یقیں ہائے سید السادات که نیم زاں ہمہ بروے یقین ہر کہ گوید دروغ هست لعین کے د یعنی جو یقین کہ حضرت عیسی کو اس کلام کے متعلق تھا جو ان پر نازل ہوا اور جو یقین کہ حضرت موسیٰ کو تو رات کے متعلق تھا اور جو یقین کہ نبیوں کے سردار محمد مصطفیٰ ﷺ کو اپنے اوپر نازل ہونے والے کلام کے متعلق تھا میں یقین کی رو سے ان میں سے کسی سے کم نہیں ہوں اور جو شخص جھوٹا دعویٰ کرتا ہے وہ لعنتی ہے۔“ یہ مکالمہ البہیہ جو مجھ سے ہوتا ہے یقینی ہے۔اگر میں ایک دم کے لئے بھی اس میں شک کروں تو کافر ہو جاؤں اور میری آخرت تباہ ہو جاوے۔وہ کلام جو میرے پر نازل ہوا یقینی اور قطعی ہے اور جیسا کہ آفتاب اور اس کی روشنی کو دیکھ کر کوئی شک نہیں کرسکتا کہ یہ آفتاب اور یہ اس کی روشنی ہے ایسا ہی میں اس کلام میں بھی شک نہیں کر سکتا جو خدا تعالیٰ کی طرف سے میرے پر نازل ہوتا ہے اور میں اس پر ایسا ہی ایمان لاتا ہوں جیسا کہ خدا کی کتاب پر “ ۲ آنحضرت ﷺ کے ساتھ اپنی محبت و عشق کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔جان و دلم فدائے جمال محمد است خاکم نثار کوچه آل محمد است نزول المسیح، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۴۷، ۴۷۸ ۲ - تجلیات البیه ،روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۴۱۲