سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 191 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 191

۱۹۱ ملنسار تھے اور ہر دوست و دشمن کو انتہائی خوش اخلاقی کے ساتھ ملتے تھے جب پنڈت لیکھرام نے آپ کے آقا اور محبوب آنحضرت ﷺ کے متعلق سخت بدزبانی سے کام لیا اور آنحضرت ﷺ کی مخالفت کو اپنی زندگی کا مقصد بنالیا تو آپ نے پنڈت صاحب کا سلام تک قبول کرنا پسند نہ کیا اور دوسری طرف منہ پھیر کر خاموش ہو گئے اور جب کسی ساتھی نے دوبارہ توجہ دلائی تو غیرت اور غصہ کے الفاظ میں فرمایا کہ:۔”ہمارے آقا کو گالیاں دیتا ہے اور ہمیں سلام کرتا ہے۔“ بظاہر یہ ایک معمولی سا واقعہ ہے مگر اس سے عشق و محبت کے اتھاہ سمندر پر بے انتہا روشنی پڑتی ہے جو آنحضرت ﷺ کے متعلق آپ کے دل میں موجزن تھا۔اسی طرح حضرت مسیح موعود کے متعلق یہ روایت بھی چھپ کر شائع ہو چکی ہے کہ ایک دفعہ آپ علیحدگی میں ٹہلتے ہوئے آنحضرت ﷺ کے درباری شاعر حسان بن ثابت کا یہ شعر تلاوت فرما رہے تھے اور ساتھ ساتھ آپ کی آنکھوں سے آنسو ٹپکتے جارہے تھے کہ :۔كنت السواد لناظری فعمی علیک الناظر من شاء بعدک فلیمت فعلیک کنت احاذر یعنی اے محمد صلعم تو میری آنکھ کی پتلی تھا پس تیری وفات سے میری آنکھ اندھی ہوگئی ہے سواب تیرے بعد جس شخص پر چاہے موت آجاوے مجھے اس کی پر واہ نہیں کیونکہ مجھے تو صرف تیری موت کا ڈر تھا جو واقع ہوگئی۔“ راوی بیان کرتا ہے کہ جب آپ کے ایک مخلص رفیق نے آپ کو اس رقت کی حالت میں دیکھا تو گھبرا کر پوچھا کہ ” حضرت ! یہ کیا معاملہ ہے؟ آپ نے فرمایا۔” کچھ نہیں میں اس وقت یہ شعر پڑھ رہا تھا اور میرے دل میں یہ خواہش پیدا ہورہی تھی کہ کاش یہ شعر میری زبان سے نکلتا۔مذہبی بزرگوں کا احترام : مگر آنحضرت ﷺ کی محبت کے یہ معنی نہیں تھے کہ آپ دوسرے بزرگوں کی محبت سے خالی تھے بلکہ حق یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی محبت نے آپ کے دل دیکھو سیرة المهدی مصنفہ خاکسار مؤلف