سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 182 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 182

۱۸۲ مسیح نے اپنے رفیقوں کے دلوں میں چھوڑی تھی وہ ایک نہ مٹنے والی یاد تھی اور آج بھی جبکہ آپ کی وفات پر اکتیس (۳۱) سال کا عرصہ گزر گیا ہے آپ کے ہر دیکھنے والے کے دل کو آپ کی یاد محبت کی تپش سے گرما رہی ہے اور میں نے کبھی آپ کے کسی صحابی کو اس حالت میں نہیں دیکھا کہ آپ کے محبت بھرے ذکر پر اس کی آنکھوں میں آنسوؤں کی جھلی نہ آگئی ہو۔اے خدا کے برگزیدہ میسیج! تجھ پر خدا کی بے شمار رحمتیں اور بے شمار سلام ہوں کہ تو نے اپنے پاک نمونے اور اپنی پاک تعلیم سے دنیا میں ایک ایسا بیج بو دیا ہے جو ایک عظیم الشان روحانی انقلاب کا بیج ہے جس کے ساتھ بہت سے مادی انقلاب بھی مقدر ہیں یہ پیج اب بڑھے گا اور پھولے گا اور پھلے گا اور پھیلے گا اور دنیا کے سب باغوں پر غالب آئے گا۔اور کوئی نہیں جو اسے روک سکے۔اللَّهُمَّ صَلَّ عَلَيْهِ وَعَلَى مُطَاعِهِ مُحَمَّدٍ وَبَارِكْ وَسَلَّمْ - حضرت مسیح موعود کی وفات پر بعض اخبارات کار یویو :۔اس گندے مظاہرے کے بعد جو حضرت مسیح موعود کی وفات پر لاہور میں کیا گیا تھا کسی مخالف کی طرف سے حضرت مسیح مود عود کے متعلق کسی تعریفی کلمہ کے سنے کی توقع نہیں کی جاسکتی تھی مگر ہر قوم میں سب لوگ ایک جیسے نہیں ہوتے اور حق یہ ہے کہ کمینہ مزاج اندھے دشمنوں یا ان کے متبعین کو چھوڑ کر حضرت مسیح موعود کی وفات پر ہر قوم و ملت کے شریف طبقہ نے آپ کے متعلق نہایت اچھے خیالات کا اظہار کیا۔چنانچہ ہم اس جگہ مثال کے طور ربعض آراء درج ذیل کرتے ہیں۔دہلی کے غیر احمدی اخبار ” کرزن گزٹ“ کے مشہور ایڈیٹر میرزا حیرت صاحب دہلوی نے لکھا۔مرحوم کی وہ اعلیٰ خدمات جو اس نے آریوں اور عیسائیوں کے مقابلہ میں اسلام کی کی ہیں وہ واقعی بہت ہی تعریف کی مستحق ہیں۔اس نے مناظرہ کا بالکل رنگ ہی بدل دیا اور ایک جدید لٹریچر کی بنیاد ہندوستان میں قائم کر دی۔نہ بحیثیت ایک مسلمان ہونے کے بلکہ محقق ہونے کے ہم اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ کسی بڑے سے بڑے آریہ اور بڑے سے بڑے پادری کو یہ مجال نہ تھی کہ وہ مرحوم