سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 183 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 183

۱۸۳ کے مقابلہ میں زبان کھول سکتا۔۔اگر چہ مرحوم پنجابی تھا مگر اس کے قلم میں اس قدر قوت تھی کہ آج سارے پنجاب بلکہ بلنی بلندی میں بھی اس قوت کا کوئی لکھنے والا نہیں۔اس کا پر زورلٹریچر اپنی شان میں بالکل نرالا ہے اور واقعی اس کی بعض عبارتیں پڑھنے سے ایک وجد کی سی حالت طاری ہو جاتی ہے۔اس نے ہلاکت کی پیشگوئیوں مخالفتوں اور نکتہ چینیوں کی آگ میں سے ہوکر اپنا رستہ صاف کیا اور ترقی کے انتہائی عروج تک پہنچ گیا۔۔۔امرتسر کے غیر احمدی اخبار وکیل کے ایڈیٹر نے لکھا:۔وہ شخص بہت بڑا شخص جس کا قلم سحر تھا اور زبان جادو۔وہ شخص جود ماغی عجائبات کا مجسمہ تھا جس کی نظر فتنہ اور آواز حشر تھی۔جس کی انگلیوں سے انقلاب کے تار الجھے ہوئے تھے اور جس کی دو مٹھیاں بجلی کی دو بیٹریاں تھیں۔وہ شخص جو مذہبی دنیا کے لئے تمہیں برس تک زلزلہ اور طوفان رہا۔جو شور قیامت ہو کر خفتگان خواب ہستی کو بیدار کرتا رہا خالی ہاتھ دنیا سے اٹھ گیا ( خالی ہاتھ مت کہو وہ رحمت کے پھول لایا تھا اور درود کا گلدستہ لے کر گیا۔مؤلف مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کی رحلت اس قابل نہیں کہ اس سے سبق حاصل نہ کیا جاوے۔ایسے شخص جن سے مذہبی یا عقلی دنیا میں انقلاب پیدا ہو ہمیشہ دنیا میں نہیں آتے۔یہ نازش فرزندان تاریخ بہت کم منظر عالم پر آتے ہی اور جب آتے ہیں تو دنیا میں ایک انقلاب پیدا کر کے دکھا جاتے ہیں۔مرزا صاحب کی اس رفعت نے ان کے بعض دعاوی اور بعض معتقدات سے شدید اختلاف کے باوجود ہمیشہ کی مفارقت پر مسلمانوں کو ہاں تعلیم یافتہ اور روشن خیال مسلمانوں کو محسوس کرا دیا ہے کہ ان کا ایک بڑا شخص ان سے جدا ہو گیا ہے اور اس کے ساتھ مخالفین اسلام کرزن گزٹ دہلی مورخہ یکم جون ۱۹۰۸ء