سلسلہ احمدیہ — Page 178
۱۷۸ چھوڑ رہے ہیں لیکن تو ہمیں نہ چھوڑیو۔“ آخر ساڑھے دس بجے کے قریب حضرت مسیح موعود نے ایک دو لمبے لمبے سانس لئے اور آپ کی روح قفس عنصری سے پرواز کر کے اپنے ابدی آقا اور محبوب کی خدمت میں پہنچ گئی - إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ - كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ وَّيَبْقَى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ - وفات پر اپنوں اور بیگانوں کی حالت :۔جماعت کے لئے یہ فوری دھ کا ایک بڑے بھاری زلزلہ سے کم نہیں تھا۔کیونکہ اول تو باوجود ان الہامات کے جو حضرت مسیح موعود کو اپنی وفات کے متعلق ایک عرصہ سے ہو رہے تھے اور جو وفات سے چند روز قبل بہت زیادہ کثرت اور بہت زیادہ وضاحت کے ساتھ ہوئے جماعت کے لوگ اس عاشقانہ محبت کی وجہ سے جو انہیں آپ کے ساتھ تھی اس صدمہ کے لئے تیار نہیں تھے۔دوسرے آپ کی وفات مرض الموت کے مختصر ہونے کی وجہ سے بالکل اچانک واقع ہوئی تھی اور بیرونجات کے احمدی تو الگ رہے خود لاہور کے اکثر دوست آپ کی بیماری تک سے مطلع نہیں ہونے پائے تھے کہ اچانک ان کے کانوں میں آپ کے وصال کی خبر پہنچی۔اس خبر نے جماعت کو گو یا غم سے دیوانہ کر دیا اور دنیا ان کی نظر میں اندھیر ہوگئی۔اور گو ہر دل غم سے پھٹا جا تا تھا اور ہر آنکھ اپنے محبوب کی جدائی میں اشکبار تھی اور ہر سینہ سوزش ہجر سے جل رہا تھا مگر جولوگ حضرت مسیح موعود کے خاص تربیت یافتہ تھے اور جماعت کی ذمہ داری کو سمجھتے تھے اور وقت کی نزاکت کو پہچانتے تھے اور اپنے دلوں کے جذبات کو روکے ہوئے تھے ان کی آنکھوں میں آنسو تھے مگر ان کے ہاتھ کام میں لگے ہوئے تھے دوسرے لوگوں میں سے اکثر ایسے تھے جو بچوں کی طرح بلک بلک کر روتے تھے اور بعض تو اس بات کو باور کرنے کے لئے تیار نہیں تھے کہ ان کا پیارا امام۔ان کا محبوب آقا۔ان کی آنکھوں کا نور۔ان کے دل کا سرور۔ان کی زندگی کا سہارا۔ان کی ہستی کا چمکتا ہوا ستارا ان سے واقعی جدا ہو گیا ہے۔حتٰی کہ جو تاریں۔بیرونی جماعتوں کی اطلاع کے لئے لاہور سے دی گئی تھیں اور استدعا کی گئی تھی کہ لوگ جنازہ کے لئے فوراً قادیان پہنچ جائیں انہیں بھی اکثر لوگوں نے جھوٹ سمجھا اور گو وہ قادیان آئے مگر