سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 177 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 177

122 مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب) اور میر صاحب ( یعنی حضرت میر ناصر نواب صاحب جو حضرت مسیح موعود کے خسر تھے ) کو جگا دو۔چنانچہ سب لوگ جمع ہو گئے اور بعد میں ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب اور ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب کو بھی بلوالیا گیا اور علاج میں جہاں تک انسانی کوشش ہو سکتی تھی وہ کی گئی۔مگر خدائی تقدیر کو بدلنے کی کسی شخص میں طاقت نہیں۔کمزوری لحظه بلحظہ بڑھتی گئی اور اس کے بعد ایک اور دست آیا جس کی وجہ سے ضعف اتنا بڑھ گیا کہ نبض محسوس ہونے سے رک گئی۔دستوں کی وجہ سے زبان اور گلے میں خشکی بھی پیدا ہو گئی جس کی وجہ سے بولنے میں تکلیف محسوس ہوتی تھی مگر جو کلمہ بھی اس وقت آپ کے منہ سے سنائی دیتا تھا وہ ان تینوں لفظوں میں محدود تھا۔اللہ۔میرے پیارے اللہ اس کے سوا کچھ نہیں فرمایا۔صبح کی نماز کا وقت ہوا تو اس وقت جبکہ خاکسار مؤلف بھی پاس کھڑا تھا نحیف آواز میں دریافت فرمایا ” کیا نماز کا وقت ہو گیا ہے؟ ایک خادم نے عرض کیا۔ہاں حضور ہو گیا ہے۔اس پر آپ نے بسترے کے ساتھ دونوں ہاتھ تیتیم کے رنگ میں چھو کر لیٹے لیٹے ہی نماز کی نیت باندھی۔مگر اسی دوران میں بیہوشی کی حالت ہو گئی۔جب ذرا ہوش آیا تو پھر پوچھا کیا ” نماز کا وقت ہو گیا ہے؟“ عرض کیا گیا ہاں حضور ہو گیا ہے۔پھر دوبارہ نیت باندھی اور لیٹے لیٹے نماز ادا کی۔اس کے بعد نیم بیہوشی کی کیفیت طاری رہی مگر جب کبھی ہوش آتا وہی الفاظ اللہ۔میرے پیارے اللہ سنائی دیتے تھے۔اور ضعف لحظہ لحظہ بڑھتا جاتا تھا۔آخر دس بجے صبح کے قریب نزع کی حالت پیدا ہو گئی اور یقین کر لیا گیا کہ اب بظاہر حالات بچنے کی کوئی صورت نہیں۔اس وقت تک حضرت والدہ صاحبہ نہایت صبر اور برداشت کیساتھ دعا میں مصروف تھیں اور سوائے ان الفاظ کے اور کوئی لفظ آپ کی زبان پر نہیں آیا تھا کہ ” خدایا ! ان کی زندگی دین کی خدمت میں خرچ ہوتی ہے تو میری زندگی بھی ان کو عطا کر دے۔لیکن اب جبکہ نزع کی حالت پیدا ہو گئی تو انہوں نے نہایت درد بھرے الفاظ سے روتے ہوئے کہا ” خدایا ! اب یہ تو ہمیں