سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 3 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 3

بھی جو گویا ایک روحانی عالم ہے، ہر زمانہ کی ضرورت کے مطابق نئے نئے خزانے نکلتے رہیں گے اور اس طرح تکمیل شریعت کے باوجود دین کے علمی حصہ میں نمو اور ترقی کا سلسلہ جاری رہے گا۔چہارم:۔دنیا کے دوسرے مذاہب کے مقابل پر اسلام کو غالب کر دکھانا یعنی اسلام کے سوا دنیا میں جتنے مذاہب پائے جاتے ہیں یا جو جو خیالات اسلام کے خلاف دنیا میں قائم ہیں انہیں غلط ثابت کر کے ان کے مقابل پر اسلام کو سچا ثابت کرنا اور خصوصیت کے ساتھ صلیبی مذہب کے زور کو توڑ نا جو اس زمانہ میں مادیت اور دہریت کے انتشار کا سب سے بڑا ذریعہ بن رہا ہے۔پنجم:۔اقوام عالم کو اس ایمان پر جمع کرنا کہ جو خبر آخری زمانہ کے متعلق مختلف مذاہب میں ایک زبر دست روحانی مصلح کی آمد کے بارے میں دی گئی تھی جس کے ذریعہ ہر قوم کو اس کی گری ہوئی حالت کے بعد پھر اٹھنے کی امید دلائی گئی تھی مگر جسے غلطی سے مختلف قوموں میں علیحدہ علیحدہ مصلحوں کی آمد سمجھ لیا گیا تھا وہ اسلام میں ہو کر بانی احمدیت کے وجود میں پوری ہوئی ہے اس لئے سب قوموں کے موعود مصلح آپ ہی ہیں اور آپ کو سب نبیوں کا بروز بنا کر مبعوث کیا گیا ہے۔چنانچہ آپ کا یہ دعویٰ تھا کہ میں مسلمانوں کے لئے مہدی ہوں اور عیسائیوں کے لئے مسیح ہوں اور ہندوؤں کے لئے کرشن ہوں وغیر ذالک۔ششم:۔دنیا میں اسلام اور احمدیت کی تعلیم کے ماتحت ایک ایسے جدید نظام کو قائم کرنا جو حقوق اللہ اور حقوق العباد کے لحاظ سے بہترین بنیاد پر قائم ہوتا کہ یہ نظام آہستہ آہستہ وسیع ہو کر ساری دنیا پر چھا جاوے۔یعنی ایک ایسی جماعت قائم کرنا جو ایک طرف تو خدا تعالیٰ کے متعلق زندہ ایمان اور حقیقی عرفان پر قائم ہو اور دوسری طرف وہ افراد اور اقوام کے باہمی تعلقات کا بھی بہترین نمونہ ہو اور یہ جماعت اسلام کی طرح بین الا قوام بنیاد پر قائم ہو کر آہستہ آہستہ دنیا کی ساری جماعتوں اور سارے نظاموں پر غالب آ جائے۔مگر بایں ہمہ مختلف قوموں کے لئے ان کی اپنی اپنی مخصوص تہذیب میں بھی جہاں تک کہ وہ وسیع اسلامی تعلیم و تمدن کے ساتھ نہیں ٹکراتی نمو اور ترقی کا رستہ کھلا رہے۔یہ وہ چھ اہم مقاصد تھے جو بانی نے اپنی بعثت کی غرض وغایت کے متعلق بیان کئے ہیں اور احمدیت کی ساری تاریخ انہی چھ نکتوں کے اردگر دگھومتی ہے۔