سلسلہ احمدیہ — Page 2
کی غرض وغایت:۔سب سے پہلے یہ جاننا چاہئے کہ احمدیت اس مذہبی تحریک کا نام ہے جس کی بنیاد حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی نے ایک باقاعدہ جماعت کی صورت میں ۱۸۸۹ء مطابق ۱۳۰۶ھ میں خدا کے حکم سے رکھی۔یہ خدائی حکم اپنی نوعیت میں ایسا ہی تھا جیسا کہ آج سے ساڑھے انیس سو سال قبل موسوی سلسلہ میں حضرت مسیح ناصری کے ذریعہ نازل ہوا تھا۔مگر جیسا کہ حقیقی مسیحیت کوئی نیا مذہب نہیں تھی بلکہ صرف موسویت کی تجدید کا دوسرا نام تھی اسی طرح احمدیت بھی کسی نئے مذہب کا نام نہیں ہے اور نہ ہی بانی کا یہ دعویٰ تھا کہ آپ کوئی نئی شریعت لائے ہیں بلکہ احمدیت کی غرض و غایت تجدید اسلام اور خدمت اسلام تک محدود ہے۔حضرت مرزا غلام احمد صاحب کا یہ دعویٰ تھا کہ خدا تعالیٰ نے آپ کو مسلمانوں کی بگڑی ہوئی حالت کی اصلاح اور اسلام کی خدمت کے لئے مامور کیا ہے اور اسلام کی خدمت کے مفہوم میں اسلام کے چہرہ کوگردوغبار سے صاف کرنا۔اسلام کی تبلیغ واشاعت کا انتظام کرنا۔اسلام کو دوسرے مذاہب کے مقابل پر غالب کرنا اور اسلام میں ہو کر دنیا کے غلط عقائد و اعمال کی اصلاح کرنا شامل ہے۔چنانچہ آپ کی تحریروں سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ کا کام چھ حصوں میں منقسم تھا۔اول :۔خالق ہستی کے متعلق مخلوق میں زندہ ایمان اور حقیقی عرفان پیدا کرنا اور خدا اور انسان کے درمیان اس تعلق کو جوڑ دینا جو انسانی پیدائش کی اصل غرض وغایت اور اسلام کا اولین مقصد ہے۔دوم: مخصوص طور پر مسلمانوں کی اعتقادی اور عملی اصلاح کا انتظام کرنا۔یعنی مرور زمانہ کی وجہ سے جو جو اعتقادی اور عملی غلطیاں مسلمانوں کے اندر پیدا ہو چکی تھیں۔انہیں خدائی منشاء کے ماتحت دُور کرنا۔سوم:۔موجودہ زمانہ کی وسیع ضروریات کے پیش نظر قرآن شریف کے مخفی خزانوں کو باہر نکال کر ان کی اشاعت کا انتظام کرنا۔اس ضمن میں یہ بات قابل نوٹ ہے کہ بانی کا یہ دعوی تھا جس نے اسلامی علوم میں ایک بالکل نیا دروازہ کھول دیا کہ گو قرآن شریف کے نزول کے ساتھ شریعت اپنی تکمیل کو پہنچ چکی ہے اور اس کے بعد کوئی نئی شریعت نہیں مگر جس طرح اس مادی عالم میں سے ہر زمانہ کی ضرورت کے مطابق نئے نئے خزانے نکلتے رہتے ہیں اسی طرح قرآن شریف سے