سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 4 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 4

بانی کے خاندانی حالات بانی پنجاب کے ایک مشہور مغل خاندان سے تعلق رکھتے تھے جو فارسی الاصل تھا اور شاہان مغلیہ سے لے کر اس وقت تک اپنے علاقہ میں اپنی وجاہت اور عزت اور اثر کی وجہ سے ممتاز رہا ہے۔خاندان کی ابتداء یوں بیان کی جاتی ہے کہ ۱۵۳۰ء میں یا اس کے قریب جبکہ شاہنشاہ ابر کا زمانہ تھا ایک شخص مرزا ہادی بیگ نامی جوامیر تیمور کے چا حاجی برلاس کی نسل میں سے تھا اور ایک با اثر اور علم دوست رئیس تھا اپنے چند عزیزوں اور خدمت گاروں کے ساتھ اپنے وطن سے نکل کر ہندوستان کی طرف آیا اور پنجاب میں لاہور سے قریباً ستر میل شمال مشرق کی طرف بڑھ کر دریائے بیاس کے قریب ایک جنگل میں اپنے کیمپ کی بنیاد رکھی۔ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ مرزا ہادی بیگ کو دہلی کی شاہی حکومت کی طرف سے اس علاقہ کا قاضی یعنی حاکم اعلیٰ مقرر کر دیا گیا۔چونکہ مرزا ہادی بیگ نے اپنے کیمپ کا نام اسلام پور رکھا تھا اس لئے وہ آہستہ آہستہ ملک کے محاورہ کے مطابق اسلام پور قاضیاں کہلانے لگا۔اور پھر مرور زمانہ اور کثرت استعمال سے اسلام پور کا لفظ گر گیا اور صرف قاضیاں رہ گیا جو بالآ خر بگڑ کر قادیان بن گیا اور اب یہی اس قصبہ کا نام ہے جس میں حضرت مرزا غلام احمد صاحب پیدا ہوئے۔مرزا ہادی بیگ کو قادیان کے اردگرد بہت سے دیہات بطور جاگیر عطا ہوئے تھے جن پر ان کی ایک رنگ میں حکومت قائم تھی اور اس علاقہ کی قضا کے ساتھ مل کر انہیں ایک بہت وسیع اثر حاصل ہو گیا تھا۔ان کے بعد ان کی اولا دبھی شاہی احکام کے ماتحت اس علاقہ کی رئیس اور حکمران رہی اور اس خاندان کے افراد در بار مغلیہ میں ہمیشہ عزت کی نظر سے دیکھے جاتے رہے۔چنانچہ مرزا فیض محمد صاحب جو بانی کے والد کے پڑدادا تھے انہیں دہلی کے شاہنشاہ فرخ سیر نے ۱۷۱۶ء میں مفت ہزاری کا عہدہ عطا کر کے عضد الدولہ کا خطاب دیا تھا۔ہفت ہزاری کے عہدے کا یہ