سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 106 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 106

1+7 تھا جس میں آپ نے قرآن وحدیث سے اپنے دعاوی مسیحیت اور مہدویت کو ثابت کیا اور اپنے تائید میں ایسے زبردست دلائل دیئے کہ جن سے مخالفین کے دانت کھٹے کر دیئے۔یہ کتاب آپ کے دعاوی کے دلائل کے لحاظ سے غالباً سب سے زیادہ جامع ہے۔دوسری کتاب جو آپ نے پیر گولڑوی صاحب کے مقابلہ میں لکھ کر شائع فرمائی اس کا نام اعجاز ای “ تھا۔اس کتاب میں آپ نے عربی زبان میں سورۃ فاتحہ کی تفسیر لکھی جو نہ صرف زبان کے لحاظ سے بلکہ اپنی معنوی لطافت کے لحاظ سے بھی نہایت بلند پایہ رکھتی ہے۔آپ نے اس کتاب کے لکھنے سے پہلے ۱۵/ دسمبر ۱۹۰۰ء کو ایک اشتہار کے ذریعہ اس بات کا اعلان فرمایا کہ پیر صاحب کو قرآن شریف کے علم کا دعویٰ ہے اور وہ اپنے آپ کو روحانی امام و مقتداء بھی سمجھتے ہیں اگر ان میں ہمت ہے تو میرے سامنے آ کر تفسیر نویسی میں مقابلہ کر لیں تا کہ دنیا کو پتہ لگ جائے کہ کس کا دعوی حق و صداقت پر مبنی ہے اور اللہ تعالیٰ کی نصرت کس کے ساتھ ہے اور آپ نے اس کے لئے ستر دن کی میعاد مقرر فرمائی یعنی لکھا کہ میں بھی ستر دن کے اندر ایک تغییر عربی زبان میں لکھ کر شائع کرتا ہوں اور پیر صاحب بھی شائع کریں اور پھر دیکھا جائے کہ غلبہ کس کو حاصل ہوتا ہے اور آپ نے پیر صاحب کو یہ بھی اجازت دی کہ وہ اگر چاہیں تو ملک کے دوسرے پیروں اور مولویوں سے بھی مدد لے سکتے ہیں۔اس کے بعد آپ نے تو مقررہ میعاد کے اندراندر یعنی ۲۵ فروری ۱۹۰۱ء سے قبل سورۃ فاتحہ کی تفسیر لکھ کر شائع فرما دی حالانکہ اس عرصہ میں آپ قریباً ایک ماہ تک علیل بھی رہے مگر پیر صاحب اور ان کے رفقاء ایک دوسرے کا منہ دیکھتے رہ گئے اور جیسا کہ اوپر بتایا جا چکا ہے حضرت مسیح موعود کی یہ تفسیر نہ صرف زبان کے لحاظ سے نہایت اعلیٰ درجہ رکھتی ہے بلکہ معارف اور علوم قرآنی کا بھی ایک عظیم الشان خزانہ ہے جو صرف دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔اس کتاب کی خوبی کا اندازہ اس سے بھی ہوسکتا ہے کہ جب یہ کتاب شائع ہوئی تو مصر کے دو مشہور اخباروں یعنی ” مناظر اور الهلال“ نے اس کی زبان کی بہت تعریف کی اور ایک اخبار نے تو یہاں تک لکھا کہ یہ واقعی ایک ایسی کتاب ہے کہ اس کی نظیر لانی مشکل ہے۔لے دیکھو تبلیغ رسالت جلد دہم اشتہار مورخہ ۱۸ار نومبر ۱۹۰۱ صفحه ۲۷۔مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفر ۵۳۴ جدید ایڈیشن