سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 107 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 107

ظلی نبوت کا دعویٰ اور ختم نبوت کی تشریح:۔اب ہم بیسوی صدی میں داخل ہو چکے ہیں اور ۱۹۰۱ء کا ابتداء اپنے ساتھ تازہ نشانوں کی روشنی کو لایا ہے چنانچہ رسالہ 'اعجاز مسیح “ کی معجزانہ تصنیف 66 جس کا اوپر ذکر گزر چکا ہے وہ اسی سال کے ابتدائی ایام میں انجام پذیر ہوئی تھی۔اسی سال میں حضرت مسیح موعود نے ایک لمبے اشتہار کے ذریعہ جس کا نام ” ایک غلطی کا ازالہ ہے اس بات کا بھی اعلان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے آنحضرت ﷺ کی اتباع میں اور آپ کے روحانی فیض کی برکت سے ظلی اور بروزی رنگ میں نبوت کا مرتبہ عطا فرمایا ہے۔نبوت اور رسالت کا دعویٰ آپ کی کتب میں پہلے بھی آپ کا تھا اور آپ کے بہت سے الہاموں میں بھی آپ کے متعلق یہ الفاظ وارد ہو چکے تھے مگر مسلمانوں کے اس معروف عقیدہ کے ماتحت کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا آپ ان الفاظ کی تاویل فرما دیا کرتے تھے اور خیال فرماتے تھے کہ یہ الفاظ حقیقت پر محمول نہیں ہیں بلکہ محض جزوی مشابہت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے انہیں استعمال کیا ہے۔لیکن جب خدائی الہامات میں یہ الفاظ زیادہ کثرت کے ساتھ استعمال ہونے لگے اور آپ نے اس بارے میں توجہ فرمائی تو اللہ تعالیٰ نے آپ پر یہ بات ظاہر کی کہ نبوت کا دروازہ من کل الوجوہ بند نہیں ہے بلکہ ختم نبوت کے صرف یہ معنے ہیں کہ آنحضرت لے کے بعد کوئی ایسا نبی نہیں آسکتا جو آپ کی شریعت کو منسوخ کرنے والا ہو یا آپ کے فیض نبوت سے آزاد ہو کر مستقل حیثیت میں نبوت کا مدعی بنے اور آپ نے تشریح فرمائی کہ آنحضرت ﷺ نے جو اس قسم کے الفاظ فرمائے ہیں کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں یا یہ کہ میں آخری نبی ہوں ان سے یہی مراد ہے کہ میرے بعد کوئی ایسا نبی نہیں جو میری شاگردی اور میری غلامی سے آزاد ہو۔یہ انکشاف آپ پر آہستہ آہستہ ہوا چنانچہ یہی وجہ ہے کہ جہاں آپ اوائل میں ہمیشہ اپنے متعلق نبی اور رسول کے الفاظ کی تاویل فرماتے تھے اور ان الفاظ کو اپنے لئے استعمال نہیں کرتے تھے وہاں آپ نے ۱۹۰۱ء میں اور اس کے بعد ان الفاظ کو نہ صرف اپنے لئے خود استعمال کیا بلکہ جب آپ