سلسلہ احمدیہ — Page 105
۱۰۵ آپ کی اطلاع کے بغیر خرچہ کی ڈگری لے کر اس کا اجراء کرا دیا۔جب اس روپے کی وصولی کے لئے سرکاری آدمی قادیان میں پہنچا تو اتفاق سے اس وقت حضرت مسیح موعود قادیان سے غیر حاضر تھے اور گورداسپور گئے ہوئے تھے۔آپ کی غیر حاضری میں ہی سرکاری آدمی نے مرزا صاحبان مذکور سے خرچہ کا مطالبہ کیا اور چونکہ ان کے پاس اس وقت اس قدر رقم موجود نہیں تھی اس لئے وہ ضابطہ کے مطابق قرقی کی کارروائی کرنے پر مجبور ہوا۔اس پر ان لوگوں نے راتوں رات ایک آدمی کو اپنا ایک خط دے کر گورداسپور بھجوایا اور حضرت مسیح موعود سے استدعا کی کہ ہمیں اس ذلت سے بچایا جاوے۔حضرت مسیح موعود کو ان حالات کا علم ہوا تو آپ اپنے آدمیوں پر خفا ہوئے کہ خرچہ کی ڈگری کا اجراء کیوں کرایا گیا ہے اور نہ صرف خرچہ کی رقم معاف کر دی بلکہ معذرت بھی کی کہ میری لاعلمی میں یہ تکلیف پہنچی ہے۔یہ مقدمہ ۱۹۰۰ء میں شروع ہوا تھا اور ا۱۹۰ء میں اس کا فیصلہ ہوا اور دیوار گرائی گئی۔پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی کی مخالفت اس وقت تک حضرت مسیح موعود کی عملی مخالفت زیادہ تر علماء کی طرف سے تھی اور گوسجادہ نشینوں اور دولطیف کتابوں کی تصنیف:۔اور پیروں کا طبقہ بھی مخالف تھا۔مگر ابھی تک ان کی مخالفت نے کوئی عملی صورت اختیار نہیں کی تھی لیکن اس زمانہ میں جس کا ہم ذکر کر رہے ہیں اس طبقہ کا ایک نامور نمائندہ بھی آپ کے خلاف میدان میں آیا اور آپ کے مقابلہ میں طاقت آزمائی کرنی چاہی۔یہ صاحب گولڑہ ضلع راولپنڈی کے ایک مشہور پیر تھے جن کا نام مہر علی شاہ تھا۔انہوں نے حضرت مسیح موعود کے خلاف دو کتابیں لکھ کر شائع کیں جن میں بہت کچھ لاف زنی کے علاوہ حضرت مسیح موعود کے لاف ناگوار حملے بھی کئے اور آپ کو اپنے مقابلہ کے لئے دعوت دی۔حضرت مسیح موعود نے اس خیال سے کہ یہ صاحب ایک نئے طبقہ کے آدمی ہیں اور ممکن ہے کہ سجادہ نشینوں میں ہل چل ہونے سے پیروں کے ماننے والے لوگوں میں کوئی مفید حرکت پیدا ہو جائے اس موقعہ کو غنیمت جانا اور گولڑوی صاحب کے جواب میں دوز بر دست کرتا ہیں لکھ کر شائع فرما ئیں۔ایک کا نام ” تحفہ گولڑویہ