سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 99 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 99

۹۹ ہے پس آپ فرماتے تھے کہ منجزات سے صرف اس حد تک روشنی پیدا ہوتی ہے جسے بادلوں والی چاندنی رات کی روشنی سے تشبیہہ دے سکتے ہیں۔کیونکہ اگر ایسا ہو تو ایمان کا کوئی فائدہ نہیں رہتا اور نہ کوئی شخص ثواب کا مستحق بن سکتا ہے پس آپ فرماتے تھے کہ مجزات سے صرف اس حد تک روشنی پیدا ہوتی ہے جسے بادلوں والی چاندنی رات کی روشنی سے تشبیہہ دے سکتے ہیں جس میں دیکھنے والے تو رستہ دیکھ لیتے ہیں مگر کمزور نظر والوں کے لئے شبہ کی بھی گنجائش رہتی ہے۔آپ کی جماعت کے ہزاروں لوگوں نے پیشگوئیوں کا نشان دیکھ کر آپ کو قبول کیا۔(ب) نشانات کی دوسری قسم قبولیت دعا کے نمونے ہیں۔آپ کو یہ دعویٰ تھا کہ چونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو دنیا کی اصلاح کے لئے مبعوث کیا ہے اس لئے وہ آپ کی دعاؤں کو خاص طور پر سنتا ہے اور انہیں قبولیت کا مرتبہ عطا کرتا ہے مگر آپ نے یہ تشریح فرمائی کہ دعاؤں کی قبولیت سے یہ مراد نہیں کہ ہر دعا ہر حال میں سنی جاتی ہے۔بلکہ اس معاملہ میں بندے کے ساتھ خدا کا سلوک دوستانہ رنگ رکھتا ہے کہ وہ اکثر دعائیں سنتا اور مانتا ہے لیکن بعض اوقات اپنی بھی منواتا ہے اور اس بات کا امتحان کرنا چاہتا ہے کہ اس کا بندہ اس کی بات کو کہاں تک خوشی اور انشراح کے ساتھ قبول کرتا ہے۔بہر حال بہت سے لوگوں نے حضرت مسیح موعود کو دعاؤں کی قبولیت کے نشان سے شناخت کیا۔کیونکہ بسا اوقات ایسا ہوتا تھا کہ لوگ کسی مصیبت یا تکلیف کے وقت میں آپ کو دعا کے لئے لکھتے تھے اور بظاہر حالات کامیابی محال نظر آتی تھی مگر آپ کی دعا سے خدا کامیابی عطا فرما تا تھا۔یا آپ کی بد دعا سے دشمنوں کو ہلاک کرتا تھا۔(ج) نشانات کی تیسری قسم خدائی نصرت ہے جو مجموعی طور پر ہر ایک صادق کے حق میں کام کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔اس دلیل سے بھی بہت سے لوگوں نے آپ کو مانا کیونکہ وہ دیکھتے تھے کہ یہ ایک اکیلا شخص اٹھا ہے جو بالکل بے سروسامان ہے اور سارا ملک اس کے خلاف ہے مگر پھر بھی خدا ہر میدان میں اسے کامیابی عطا کرتا ہے اور اس کے مخالف باوجود ہر قسم کے سازوسامان سے