سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 98 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 98

۹۸ ہمیشہ کے لئے رام ہو گئے اور پھر انہوں نے آپ کی غلامی کو سب فخروں سے بڑا فخر جانا۔غرض آپ کی کامیابی کا ایک بڑا سبب آپ کی ذات اور آپ کا اخلاقی اور روحانی اثر تھا۔یہ درست ہے کہ بعض لوگوں نے باوجود آپ کے ساتھ ملنے اور آپ کی مجلس میں آنے جانے کے آپ کو نہیں مانا لیکن یہ آپ کا قصور نہیں بلکہ خودان لوگوں کا اپنا قصور تھا۔کیونکہ ایک بڑے سے بڑا مقناطیس بھی مٹی کے ڈھیلے کو نہیں کھینچ سکتا اور ایسے سفلی لوگوں کا وجود ہر نبی کے زمانہ میں پایا جاتارہا ہے جس کی وجہ سے ان کی مقناطیسی طاقت کم نہیں سمجھی جاسکتی حضرت مسیح موعود کو اپنی اس خدا داد طاقت کا خود بھی احساس تھا چنانچہ آپ اپنے مخالفوں کو اکثر کہا کرتے تھے کہ چند دن مخالفت چھوڑ کر میری صحبت میں آکر رہو اور پھر میں امید کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ تمہارے لئے خود کوئی رستہ کھول دے گا۔بعض لوگوں نے آپ کے اس روحانی اثر کو حرا اور جادو کے نام سے تعبیر کیا اور مشہور کیا کہ مرزا صاحب کے پاس کوئی نہ جائے کیونکہ وہ جادو کر دیتے ہیں۔مگر یہ جادو نہیں تھا بلکہ آپ کی روحانیت کی زبردست کشش تھی جو سعید لوگوں کو اپنی طرف کھینچ لیتی تھی اور روحانی اثر کے علاوہ آپ کے اخلاق بھی ایسے اعلیٰ اور ارفع تھے کہ ہر شخص جس کو آپ کے ساتھ واسطہ پڑتا تھاوہ آپ کا گرویدہ ہو جاتا تھا۔دوسرا بڑا سبب وہ نشانات اور معجزات تھے جو آپ کو خدا تعالیٰ نے عطا کئے تھے جن کا مجموعی اثر بھی ایک مقناطیسی طاقت سے کم نہیں تھا اور آپ کے نشانات چند قسم پر منقسم تھے۔(الف) نشانات کی پہلی قسم وہ پیشگوئیاں تھیں جو آپ خدا سے علم پا کر کرتے تھے جن میں دوستوں اور دشمنوں اور افراد اور قوموں سب کے متعلق آئندہ کی خبریں ہوتی تھیں جو اپنے وقت پر پوری ہو کر لوگوں کے دلوں میں ایمان پیدا کرتی تھیں اور آپ کی پیشگوئیوں میں علم اور قدرت ہر دوکا اظہار ہوتا تھا۔کیونکہ یہی وہ دوستون ہیں جن پر خدا کی حکومت قائم ہے۔مگر پیشگوئیوں کے معاملہ میں آپ یہ تشریح فرمایا کرتے تھے کہ ان سے بالعموم ایسی صورت پیدا نہیں ہوتی جسے دن کی تیز روشنی سے شیہہ دے سکیں۔کیونکہ اگر ایسا ہو تو ایمان کا کوئی فائدہ نہیں رہتا اور نہ کوئی شخص ثواب کا مستحق بن سکتا