سلسلہ احمدیہ — Page 60
۶۰ کے ساتھ گورنمنٹ کے سامنے پیش کیا اور استدعا کی کہ ملک کی فضاء کی بہتری اور اخلاقی درستی کے لئے یہ ضروری ہے کہ مجوزہ صورت میں قانون کو وسیع کر دیا جاوے تا کہ ناواجب حملوں کا دروازہ بند ہو جاوے اور آپ نے لکھا کہ یہ قانون ساری قوموں کے لئے مساوی ہوگا اور اس میں کسی کی رعایت نہیں ہے۔دوسری طرف آپ نے اس موقعہ پر مسلمانوں کو بھی یہ نصیحت فرمائی کہ اس بات پر زور دینا کہ ایسی کتاب ضبط کر لی جاوے اور مصنف کے خلاف مقدمہ چلایا جائے درست نہیں ہے کیونکہ اول تو کتاب کافی حد تک پھیل چکی ہے اور اب اس کی ضبطی بے معنی ہے اور دوسرے اس کی ضبطی سے ہم اس کی تردید کے حق سے بھی محروم ہو جاتے ہیں حالانکہ اصل علاج یہ ہے کہ ہم ان اعتراضوں کا مدلل اور مسکت جواب دے کر انہیں جھوٹا ثابت کر دیں پس آپ نے اس موقعہ پر پھر اپنی سابقہ تجویزوں کی طرف گورنمنٹ کی توجہ دلائی اور لکھا کہ ہم جائز مذہبی تبادلہ خیال اور پر امن تبلیغ و اشاعت کا دروازہ بند نہیں کرنا چاہتے لیکن یہ ضروری ہے کہ مذہبی آزادی کے نام پر ناجائز اور ناواجب حملے نہ کئے جائیں اور مذہبی تحریر و تقریر کو مناسب قیود کے اندر مقید کر دیا جاوے۔اس موقعہ پر آپ نے یہ تجویز بھی پیش کی جو اس ضمن میں گویا تیسری تجویز تھی کہ مناسب ہوگا کہ موجودہ حالات کے پیش نظر وقتی طور پر یہ قانون بھی بنادیا جاوے کہ کوئی فریق دوسرے فریق پر حملہ نہ کرے یعنی ہر شخص اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کرے اور اس کے محاسن کو دوسروں کے سامنے لائے مگر دوسروں کے مذہب پر حملہ کرنے کی اجازت نہ ہو اے مگر افسوس ہے کہ اس موقعہ پر بھی گورنمنٹ نے ملکی فضا کی بہتری کے لئے کوئی مؤثر قدم نہیں اٹھایا۔حضرت مسیح موعود نے اسی زمانہ کے قریب یہ بھی اعلان کیا کہ ہم نے جو بعض اوقات اپنے مخالفین کے خلاف یا دوسرے مذاہب کے خلاف اپنی تحریرات میں کسی قدر سختی سے کام لیا ہے تو وہ محض جوابی صورت میں لیا ہے اور ہمیشہ دوسروں کی طرف سے پہل ہوتی رہی ہے اور آپ نے تشریح فرمائی کہ ہم نے کہیں کہیں جوابی رنگ میں اس لئے سختی کی ہے کہ تا دوسری قوموں کو ہوش آئے اور وہ اپنے لے دیکھو اشتہارات مورخ ۲۴ فروری و ۴ رمئی ۱۸۹۸ء۔مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحه ۱۹۳ تا ۱۹۵ جدید ایڈیشن