سلسلہ احمدیہ — Page 61
۶۱ او پر حملہ ہوتا ہوا دیکھ کر دوسروں کے جذبات کا احترام کرنا سیکھیں اور تا اس ذریعہ سے مسلمانوں کے جوش بھی ٹھندے ہو جائیں اور وہ یہ خیال کریں کہ کچھ نہ کچھ ہماری طرف سے بھی جواب ہو گیا ہے اور آپ نے بار بار لکھا کہ ہماری اصل غرض کبھی بھی یہ نہیں ہوئی کہ کسی قوم کی دلآ زاری کی جاوے بلکہ ہم نہایت نرمی اور محبت اور امن کے طریق پر کام کرنا چاہتے ہیں مگر جب دوسرا فریق حد سے بڑھ جاوے تو اصلاح اور انسداد کے خیال سے کسی قدر تلخ جواب دینا پڑتا ہے لیکن پھر بھی ہم مناسب حد سے تجاوز نہیں کرتے اور اگر دوسرے لوگ اصلاح کر لیں تو ہمیں اس کی بھی ضرورت نہیں لے حضرت بابا نانک کے متعلق ایک زبردست انکشاف:۔اسی زمانہ میں یعنی ۱۸۹۵ء میں آپ نے ایک عظیم الشان تحقیق کا اعلان فرمایا جو سکھ مذہب کے بانی حضرت باوا نا نک صاحب کے متعلق تھی۔آپ نے باوا صاحب کے متعلق یہ ثابت کیا کہ وہ گو ہندوؤں کے گھر میں پیدا ہوئے مگر دراصل وہ ایک پاکباز مسلمان ولی تھے جنہوں نے ہندوؤں کے مذہب سے بیزار ہوکر بالآخر اسلام قبول کر لیا تھا۔آپ نے ثابت کیا کہ باوا صاحب نے کوئی نئی شریعت پیش نہیں کی بلکہ وہ آنحضرت کی رسالت اور قرآن شریف کی شریعت پر ایمان لاتے تھے اور مسلمانوں کی طرح با قاعدہ نماز پڑھتے تھے اور سارے اسلامی احکام کے پابند تھے اور انہوں نے مکہ کا دور دراز سفر اختیار کر کے بیت اللہ کا حج بھی کیا تھا اور بالآ خر آپ نے یہ بھی ثابت کر دیا کہ وہ متبرک چولہ جو ڈیرہ بابا نانک ضلع گورداسپور میں کئی صدیوں سے باوا صاحب کی خاص یادگار چلا آتا ہے وہ بھی آپ کے مسلمان ہونے کو ثابت کرتا ہے کیونکہ اس میں جابجا کلمہ طیبہ اور قرآنی آیات درج ہیں۔ہے اس عظیم الشان تحقیق نے سکھ قوم میں ایک تہلکہ مچا دیا اور گوان میں سے اہل الرائے لوگ اس انکشاف کی وجہ سے سوچ میں پڑ گئے مگر عوام نے اسے اشتعال کا ذریعہ بنالیا اور آپ کی مخالفت میں آگے سے بھی زیادہ تیز ہو گئے۔آپ کی اس تحقیق کی قدرومنزلت اور بھی زیادہ ہو جاتی ہے جب ہم اسے اس بات کی روشنی لے اشتہار مورخہ ۲۰ ستمبر ۱۸۹۷ء مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحه ۱۶۹ تا ۷۳ جدید ایڈیشن ے دیکھو حضرت مسیح موعود کی تصنیف ست بچن و غیره ( ملخص از ست بچن۔روحانی خزائن جلده اصفحه ۱۴۴ تا ۱۵۸)