سلسلہ احمدیہ — Page 392
۳۹۲ حضرت خلیفہ اسیح ثانی کو اس نئی آبادی میں حفظان صحت کے اصول کا خاص خیال ہے چنانچہ آپ نے حال ہی میں یہ حکم دیا ہے کہ قادیان کی نئی آبادی کی کوئی گلی کسی صورت میں ہیں فٹ سے کم نہ ہو اور سڑکیں پچاس فٹ بلکہ اس سے بھی زیادہ ہوں اور ایک نیا محلہ دارالانوار جو آپ کی خاص نگرانی میں ۱۹۳۲ء سے آباد ہورہا ہے۔اس کی سڑک ۷۵ فٹ رکھی گئی ہے اور اس کی کوئی گلی تمیں فٹ سے کم نہیں۔یہ صرف موجودہ حالات کی مجبوریوں کی وجہ سے ہے ورنہ آپ کا خیال ہے کہ راستہ جات اس سے بھی زیادہ فراخ ہونے چاہئیں۔اسی طرح آپ کی یہ ہدایت ہے کہ ہر محلہ میں کوئی نہ کوئی بڑا چوک بھی چھوڑا جاوے۔اسی ضمن میں یہ بات بھی قابل نوٹ ہے کہ حضرت مسیح موعود نے خدا سے علم پا کر قادیان کی ترقی کے متعلق یہ پیشگوئی فرمائی ہوئی ہے کہ وہ ایک بہت عظیم الشان شہر بن جائے گا اور اس کی آبادی بیاس دریا کے کناروں تک جو اس وقت قادیان سے آٹھ میل کے فاصلے پر ہے پھیل جائے گی اور اللہ تعالیٰ اسے ہر رنگ میں ترقی دے گا اور اس کی ترقی کے زمانہ میں اس کی رونق قابل دید ہوگی۔سائمن کمیشن اور گول میز کانفرنس کے تعلق ۱۹۲۸ء سے لے کر ۱۳۰ در تک کے سال ہندوستان کی تاریخ میں اس لحاظ سے میں حضرت خلیفہ اسیح کے سیاسی کارنامے:۔خصوصیت رکھتے ہیں کہ ان سالوں میں حکومت برطانیہ نے ہندوستان کے سیاسی آئین کی اصلاح کے لئے شروع شروع میں ایک کمیشن بٹھایا اور پھر انگلستان میں ایک گول میز کانفرنس کا انعقاد کر کے اس کے مشورہ میں ہندوستانیوں کو شریک ہونے کی دعوت دی۔یہ ایام نہ صرف مسلمانوں کے لئے بلکہ ہندوستان کی ساری اقوام کے لئے نہایت نازک ایام تھے کیونکہ اس میں ہندوستان کے آئندہ نظام حکومت اور مختلف قوموں کے باہمی حقوق کا فیصلہ ہونا تھا گویا اس وقت ایک مثلث نوعیت کا مسئلہ ملک کے سامنے تھا یعنی ایک سوال یہ تھا کہ ہندوستان برطانیہ سے کیا حاصل کرے؟ اور دوسرا سوال یہ تھا کہ ہندوستان اور دوسری ہندوستانی قوموں کے باہمی حقوق کس اصول کے ماتحت تصفیہ پائیں اور تیسرا سوال یہ تھا کہ نئے آئین میں