سلسلہ احمدیہ — Page 393
۳۹۳ ہندوستانی ریاستوں کی کیا پوزیشن ہو۔گویا ایک طرف انگریز کے مقابل پر ہندوستانی تھا اور دوسری طرف ہندوؤں کے مقابل پر مسلمان اور سکھ اور عیسائی اور اچھوت وغیرہ اقوام تھیں اور تیسری طرف برطانوی ہندوستان کے مقابل پر ریاستی ہندوستان تھا اور ان سب عناصر کے ملنے سے یہ مسئلہ ایک نہایت پیچد ارصورت اختیار کر گیا تھا۔سو حضرت خلیفہ اُسیح ثانی نے اس موقعہ پر بھی اپنے قدیم طریق کے مطابق نہ صرف حکومت اور ملک کو بلکہ مسلمانوں کو بھی نہایت قیمتی مشورہ پیش کیا اور اس عرصہ میں دو تین کتب تصنیف کر کے اس سوال کے سارے پہلوؤں پر نہایت لطیف بحث فرمائی۔مختصر طور پر حکومت کو آپ کا مشورہ یہ تھا کہ اپنی نیت کو صاف رکھو اور اس بات کو دل سے تسلیم کر لو کہ ہندوستان کو پوری پوری آزادی کا حق ہے اور اس کے بعد اسے واقعی پورا پورا حق دے دو اور صرف اتنے حصہ کو محفوظ رکھو ( اپنے لئے نہیں بلکہ ایک امین کی حیثیت میں ) جو ہندوستان کے خاص حالات کے ماتحت خود ہندوستانیوں ہی کے مفاد میں ضروری ہو۔اور ملک کو آپ نے یہ مشورہ دیا کہ اس بات کو مد نظر رکھو کہ خواہ کسی وجہ سے سہی مگر بہر حال یہ ایک حقیقت ہے کہ انگریز ایک لمبے عرصہ سے ہندوستان پر حاکم ہیں اور ان کے اختلاط سے ہندوستان کو اور ہندوستانیوں کو کئی لحاظ سے واقعی بہت فائدہ پہنچا ہے اور کئی جہت سے آپس میں اتحاد واشتراک کی روایات قائم اور پختہ ہوچکی ہیں۔پس بے شک اپنے حقوق لو اور پورے پورے حقوق لو مگر جہاں تک اپنے حقوق کی روح کو قربان کرنے کے بغیر انگریزوں کے ساتھ اتحاد اور اشتراک قائم رکھ سکتے ہوا سے قائم رکھو کیونکہ یہ اتحاد آگے چل کر ہر دو فریق کے لئے کئی لحاظ سے مفید ہو سکتا ہے۔آپ نے لکھا ہے کہ برطانوی ایمپائر کا نظام ایک ایسا نظام ہے کہ اس کے اندر مختلف آزاد ممالک اپنی پوری پوری آزادی کو قائم رکھتے ہوئے بھی اکٹھے رہ سکتے ہیں۔پس آزادی بھی لو اور اس اتحاد سے فائدہ بھی اٹھاؤ۔تیسری طرف آپ نے ہندوؤں کو یہ مشورہ دیا کہ ملک میں آپ لوگوں کی کثرت ہے اور آپ کو دولت اور رسوخ بھی حاصل ہے اور تعلیم میں بھی آپ آگے ہیں اور تمام دوسری قو میں جو تعداد میں آپ سے کم