سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 382 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 382

۳۸۲ جاری رہے تا کہ جولڑ کیاں مدرسی یا ڈاکٹری وغیرہ کی لائن کی طرف جانا چاہیں وہ ادھر جاسکیں۔مگر دوسری لائن جس میں زیادہ لڑکیوں کو جانا چاہئے وہ مروجہ طریق تعلیم سے ہٹا کر خالصہ اپنے پروگرام اور اپنے نصاب کے ماتحت قائم کی جائے اس لائن میں دینیات کی تعلیم پر زیادہ زور ہو اور کا لٹریچر پڑھایا جاوے اور تربیت کے اصول سکھائے جائیں اور کچھ حصہ نرسنگ اور امور خانہ داری کا بھی ہو۔اس کے علاوہ تقریر تحریر کی بھی مشق کرائی جائے تا کہ یہ لڑکیاں دین کی خادم بن سکیں۔چنانچہ مدرسہ کی یہ شاخ تین سال سے نہایت کامیابی کے ساتھ چل رہی ہے اور اس کے ذریعہ احمدی لڑکیوں میں ایک نمایاں تبدیلی اور غیر معمولی ترقی کے آثار نظر آتے ہیں۔الغرض حضرت خلیفہ اسیح کے زمانہ میں حضور کی ہدیات اور نگرانی کے ماتحت احمدی مستورات نے ہر جہت سے ترقی کی ہے اور بعض کاموں میں تو وہ اس قدر جوش اور شوق دکھاتی ہیں کہ مردوں کو شرم آنے لگتی ہے اور مالی قربانی میں بھی ان کا قدم پیش پیش ہے۔احمدی مستورات کی مالی قربانی کا اندازہ صرف اس ایک واقعہ سے ہو سکتا ہے کہ جب اوائل ۱۹۲۳ء میں حضرت خلیفہ اسیح نے ی تحریک فرمائی کہ جرمنی میں ایک مسجد کی تعمیر کے لئے صرف احمدی عورتیں چندہ جمع کریں تو اس اپیل پر چند ماہ کے عرصہ میں عورتوں نے ایک لاکھ روپے سے زیادہ رقم اکٹھی کر لی اور یہ رقتم صرف مستورات سے لے گئی جس میں مردوں کا کوئی حصہ نہیں تھا۔مشیت الہی سے جرمنی کی مسجد تعمیر نہیں ہو سکی اور یہ روپیہ مستورات کے مشورہ سے بعض دوسرے اہم دینی کاموں میں خرچ کر لیا گیا مگر بہر حال احمدی مستورات نے اس موقعہ پر اپنی مالی قربانی کا ایک حیرت انگیز ثبوت پیش کیا۔اس چندہ میں بڑی رقمیں شامل نہیں تھیں بلکہ چھوٹی چھوٹی رقموں سے یہ بڑی میزان حاصل ہوئی تھی اور اکثر صورتوں میں نقدی کی بجائے عورتوں نے اپنے زیورات پیش کر دیئے تھے۔مذہبی پیشواؤں کی حفاظت حضرت مسیح موعود بانی کے سوانح کی ذیل میں ہم بتا چکے ہیں کہ آپ نے اپنے اوائل زمانہ میں ہی گورنمنٹ کو اس ناموس کے لئے جد وجہد :۔بات کی طرف توجہ دلائی تھی کہ ملک کا موجودہ قانون مختلف