سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 383 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 383

۳۸۳ قوموں کے مذہبی پیشواؤں کی عزت کی حفاظت کے معاملہ میں بہت کمزور اور ناقص ہے اور اسی لئے ہندوستان میں آئے دن مذہبی بزرگوں پر حملے ہوتے رہتے ہیں جن کی وجہ سے ملک کی فضا بہت خراب رہتی ہے اور قوموں کے درمیان امن کی صورت پیدا نہیں ہوتی۔اور آپ نے اپنی طرف سے بعض تجویزیں بھی پیش فرمائی تھیں کہ اگر انہیں اختیار کیا جائے تو حالات بہتری کی طرف مائل ہو سکتے ہیں۔مگر افسوس ہے کہ گورنمنٹ نے اس وقت اس ضروری امر کی طرف توجہ نہ دی اور حالات بد سے بدتر ہوتے گئے۔اس دلآزاری کا سب سے بڑا مظاہرہ ہمارے مقدس رسول آنحضرت ﷺ کے خلاف ہوتا تھا جن کی ارفع اور پاکیزہ شان کو گرانے اور میلا کرنے کے لئے ہر قوم کے نا اہل لوگ آپ کی عزت کے خلاف ناپاک حملے کرتے رہتے تھے۔جب حضرت خلیفہ اسیح ثانی کا زمانہ آیا تو آپ ے پھر ایک دفعہ گورنمنٹ کو اس ضروری اصلاح کی طرف توجہ دلائی مگر اب بھی حکومت کے حلقوں میں کوئی حرکت پیدا نہ ہوئی۔آخر ۱۹۲۷ء میں آ کر خدا نے آپ کے ہاتھ میں ایک ایسا موقع دے دیا جس کی وجہ سے گورنمنٹ حرکت میں آنے پر مجبور ہوگئی۔تفصیل اس کی یہ ہے کہ اس زمانہ میں بعض کو تہ بین ہندو مصنفوں نے اوپر تلے آنحضرت ﷺ کے خلاف ایسے دلآ زار حملے کئے کہ ان سے مسلمانوں کے دل چھلنی ہو گئے۔چنانچہ پہلے تو ایک آریہ سماجی مسمی راج پال نے ایک کتاب ”رنگیلا رسول“ نامی تصنیف کر کے شائع کی اور اس کتاب میں مقدس بانی اسلام کے متعلق نہایت درجہ دلخراش اور اشتعال انگیز باتیں لکھیں یہ ۱۹۲۴ء کا واقعہ ہے۔حکومت نے اس کتاب کے مصنف پر مقدمہ چلایا جو بہت دیر تک چلتا رہا مگر بالآ خرمئی ۱۹۲۷ء میں پنجاب ہائی کورٹ نے اسے ایک اصطلاحی بنیاد پر خارج کر کے مصنف کو بری کر دیا۔اس فیصلہ کی وجہ سے پنجاب میں سخت ہیجان پیدا ہوا۔اس کے کچھ عرصہ بعد یعنی اپریل ۱۹۲۹ء میں ایک مسلمان نو جوان علم الدین نے جوش میں آکر رنگیلا رسول“ کے مصنف کو دن دہاڑے قتل کر دیا۔اس تکلیف دہ حادثہ پر حضرت خلیفتہ اسیح نے ایک طرف تو حکومت کو توجہ دلائی کہ اس قسم کی نا پاک اشتعال انگیزی کا سلسلہ رکنا چاہئے ورنہ ملک