سلسلہ احمدیہ — Page 381
۳۸۱ طرف توجہ دیں تا کہ اوّل ان کا وقت بیکاری میں نہ گزرے دوسرے وہ اس ذریعہ سے تھوڑا بہت لما بھی سکیں اور تیسرے ملک میں صنعت اور دستکاری کے فن کو ترقی حاصل ہو۔اور اس تحریک کے ساتھ ہی ایک زنانہ نمائش کا بھی آغاز کر دیا گیا جو ہر سال جلسہ سالانہ کے موقعہ پر قادیان میں لگتی ہے اور اس میں احمدی مستورات اپنی دستکاری کے نمونے پیش کرتی ہیں۔اسی تنظیمی پروگرام کی ذیل میں آپ نے یہ بھی تجویز فرمائی کہ جس طرح احمدی مردوں کا سالانہ جلسہ ہوتا ہے اسی طرح عورتیں بھی اپنا سالانہ جلسہ کیا کریں تا کہ انہیں تقریر کی مشق ہو اور مردوں کی طرح ان کی تعلیم و تربیت کا سلسلہ بھی ترقی پائے اور قادیان میں آکر ان کا فت بریکار نہ گزرے۔چنانچہ اب مردانہ جلسہ کے علاوہ ہر سال قادیان میں زنانہ جلسہ بھی ہوتا ہے جس میں ہزاروں عورتیں شریک ہوتی ہیں۔اس جلسہ میں عورتوں کے علاوہ بعض خاص خاص مرد بھی پردہ کے انتظام کے ساتھ تقریریں کرتے ہیں اور ایک تقریر خود حضرت خلیفتہ المسیح کی بھی ہوتی ہے اور ہزاروں احمدی عورتیں ان تقریروں سے فائدہ اٹھاتی اور ایک نئی روح کے ساتھ قادیان سے واپس جاتی ہیں۔عورتوں کے متعلق ایک اور اہم اصلاح جس کا اصل موقعہ تو آگے چل کر آتا ہے کیونکہ وہ ۱۹۳۶ء میں شروع ہوئی مگر چونکہ ہم اس جگہ مستورات سے تعلق رکھنے والے امور کو یکجا لکھ رہے ہیں اس لئے زمانہ کا لحاظ ترک کر کے اسے بھی یہاں درج کیا جاتا ہے۔یہ اصلاح قادیان کے زنانہ سکول کے متعلق ہے جس کا نام نصرت گرلز ہائی سکول ہے۔یہ سکول ایک لمبے عرصہ سے قادیان میں قائم ہے شروع شروع میں وہ پرائمری کی حد تک تھا پھر مڈل تک بڑھایا گیا۔اور ۱۹۲۹ء میں اس کا ہائی ڈیپارٹمنٹ کا حصہ بھی کھول دیا گیا۔چنانچہ ۱۹۳۱ء میں اس کی لڑکیاں پہلی دفعہ انٹرنس کے امتحان میں شریک ہوئیں۔مگر حضرت امیر المومنین کو ایک عرصہ سے یہ خیال تھا کہ زنانہ تعلیم کو مردانہ تعلیم کے رستہ پر چلانا درست نہیں کیونکہ ہر دو کا کام اور ضروریات جدا گانہ ہیں۔چنانچہ آپ نے ۱۹۳۶ء میں یہ ہدایت جاری فرمائی کہ مڈل تک عام مروجہ تعلیم رکھ کر ( کیونکہ ایک مشترک ابتدائی معیار عام تعلیم کا ہونا ضروری ہے ) اس کے بعد سکول کو دوحصوں میں تقسیم کر دیا جائے ایک حصہ وہی مروجہ تعلیم کی لائن پر