سلسلہ احمدیہ — Page 13
۱۳ ہے کہ بہت سا وقت عزیز میرا ان بیہودہ جھگڑوں میں ضائع ہو گیا اور اس کے ساتھ ہی والد صاحب موصوف نے زمینداری امور کی نگرانی میں مجھے لگا دیا۔میں اس طبیعت اور فطرت کا آدمی نہیں تھا اس لئے اکثر والد صاحب کی ناراضگی کا نشانہ رہتا رہا۔ان کی ہمدردی اور مہربانی میرے پر نہایت درجہ پر تھی مگر وہ چاہتے تھے کہ دنیا داروں کی طرح مجھے رو خلق بناویں اور میری طبیعت اس طریق سے سخت بیزار تھی تاہم میں خیال کرتا ہوں کہ میں نے نیک نیتی سے نہ دنیا کے لئے بلکہ محض ثواب اطاعت حاصل کرنے کے لئے اپنے والد صاحب کی خدمت میں اپنے تئیں محو کر دیا تھا اور ان کے لئے دعا میں بھی مشغول رہتا تھا اور وہ مجھے دلی یقین سے بر بالوالدین جانتے تھے۔ایسا ہی ان کے زیر سایہ ہونے کے ایام میں چند سال تک میری عمر کراہت طبع کے ساتھ انگریزی ملازمت میں بسر ہوئی۔اس تجربہ سے مجھے معلوم ہوا کہ اکثر نوکری پیشہ نهایت گندی زندگی بسر کرتے ہیں۔والدہ کی وفات اور ان کی محبت بھری یاد :۔آخر آپ کے اصرار پر آپ کے والد صاحب نے آپ کو سرکاری ملازمت سے مستعفی ہونے کی اجازت دے دی اور آپ اپنے والد کی خواہش کے مطابق قادیان واپس آکر پھر زمینداری کام کی نگرانی میں مصروف ہو گئے۔یہ غالبا ۱۸۶۸ ء یا اس کے قریب کا زمانہ تھا۔اسی زمانہ کے قریب آپ کی والدہ صاحبہ کا انتقال ہوا جن کی محبت بھری یاد آپ کو اپنی عمر کے آخری لمحات تک بے چین کر دیتی تھی۔خاکسار راقم الحروف کو اچھی طرح یاد ہے کہ جب بھی حضرت مسیح موعود اپنی والدہ کا ذکر فرماتے تھے یا آپ کے سامنے کوئی دوسرا شخص آپ کی والدہ کا ذکر کرتا تھا تو ہر ایسے موقعہ پر جذبات کے ہجوم سے آپ کی آنکھوں میں آنسو آ جاتے تھے اور آواز میں بھی رقت کے آثار ظاہر ہونے لگتے تھے اور یوں معلوم ہوتا تھا کہ اس وقت آپ کا دل جذبات کے تلاطم ا کتاب البریہ روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۱۸۲ تا ۱۸۵ حاشیه