سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 14 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 14

۱۴ میں گھرا ہوا ہے اور آپ اسے دبانے کی کوشش کر رہے ہیں۔آپ کی والدہ صاحبہ کا نام چراغ بی بی تھا اور وہ ایم ضلع ہوشیار پور کی رہنے والی تھیں اور سنا گیا ہے کہ آپ کی والدہ کو بھی آپ سے بہت محبت تھی اور سب گھر والے آپ کو ماں کا محبوب بیٹا سمجھتے تھے۔سایہ پدری کے آخری ایام:۔بہر حال ملازمت سے فارغ ہو کر آپ قادیان واپس آگئے اور بدستور زمینداری کاموں کی نگرانی میں مصروف ہو گئے۔مگر ان ایام میں بھی آپ کے وقت کا اکثر حصہ قرآن شریف کے تدبر اور تفسیروں اور حدیثوں اور تصوف کی کتابوں کے دیکھنے میں صرف ہوتا تھا اور بسا اوقات آپ یہ کتابیں اپنے والد صاحب کو بھی سنایا کرتے تھے اور اس میں آپ کو دو غرضیں مدنظر تھیں۔ایک تو یہ کہ تا اس آخری عمر میں آپ کے والد صاحب کی توجہ دنیا کی طرف سے ہٹ کر دین کی طرف راغب ہو اور دوسرے یہ کہ تاوہ ان ہموم و عموم میں کسی قدر تسلی کا راہ پائیں جو اکثر مقدمات میں ناکام رہنے کی وجہ سے انہیں لاحق ہو رہے تھے۔آپ کی یہ مخلصانہ کوشش کامیابی کا پھل لائی یعنی آپ کے والد صاحب کو اپنی عمر کے آخری ایام میں دنیا کی طرف سے بے رغبتی اور دین کی طرف توجہ پیدا ہو گئی۔مگر یہ تبدیلی اس تلخ احساس کو بھی اپنے ساتھ لائی کہ میں نے اپنی عمر دنیا کے جھگڑوں میں ناحق ضائع کر دی۔چنانچہ حضرت مسیح موعود لکھتے ہیں :۔حضرت والد صاحب مرحوم ایک نہایت عمیق گرداب غم اور حزن اور اضطراب میں زندگی بسر کرتے تھے اور مجھے ان حالات کو دیکھ کر ایک پاک تبدیلی پیدا کرنے کا موقعہ حاصل ہوتا تھا کیونکہ حضرت والد صاحب کی تلخ زندگی کا نقشہ مجھے اس بے لوث زندگی کا سبق دیتا تھا جو دنیا کی کدورتوں سے پاک ہے وہ ہمیشہ مغموم اور محزون رہتے تھے اور بارہا کہتے تھے کہ جس قدر میں نے اس پلید دنیا کے لئے سعی کی ہے اگر میں وہ سعی دین کے لئے کرتا تو شاید آج قطب وقت یا غوث وقت ہوتا یم اور درد ان کا پیرانہ سالی میں بہت بڑھ گیا تھا۔اسی خیال سے (اپنی وفات سے) قریباً چھ ماہ پہلے اس قصبہ کے وسط