سلسلہ احمدیہ — Page 12
۱۲ اور اپنے طبعی میلان کے خلاف ایک ایسے دنیوی کام میں مصروف ہونا پڑا تھا جو بدقسمتی سے ہندوستان میں بہت مخرب اخلاق ہو رہا تھا۔اس کے بعد یعنی ۱۸۶۴ء میں یا اس کے قریب آپ کو اپنے والد کی خواہش کے مطابق کچھ عرصہ کے لئے سیالکوٹ کے دفتر ضلع میں سرکاری ملازمت بھی اختیار کرنی پڑی۔یہ نیا ماحول خفیف تغیر کے ساتھ قریباً قریباً وہی ماحول تھا جو مقدمات کی پیروی میں گزر چکا تھا۔مگر خدا کو اپنے ہونے والے مسیح کو یہ سب نظارے دکھانے منظور تھے تا کہ وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لے کہ دنیا کس رنگ میں بس رہی ہے۔سیالکوٹ میں آپ کم و بیش چار سال ملازم رہے۔اس زمانہ کے متعلق دوست و دشمن سب کی متفقہ شہادت ہے کہ آپ نے دینی اور اخلاقی لحاظ سے ہر رنگ میں اعلیٰ نمونہ دکھایا جس کی وجہ سے وہ سب لوگ جن کے ساتھ آپ کا واسطہ پڑا آپ کی تعریف میں رطب اللسان تھے۔چنانچہ ان ایام میں سیالکوٹ میں ایک انگریز پادری مسٹر بٹلر ایم۔اے رہتے تھے وہ حضرت مسیح موعود سے مل کر اور آپ کے خیالات سن کر اور اخلاق دیکھ کر اس قدر متاثر ہوئے کہ باوجود شدید مذہبی اختلاف کے وہ آپ کو خاص طور پر عزت کی نظر سے دیکھتے تھے۔چنانچہ جب وہ واپس وطن جانے لگے تو حضرت مسیح موعود کی آخری ملاقات کے لئے خود چل کر ڈپٹی کمشنر کے دفتر میں آئے اور ڈپٹی کمشنر کے دریافت کرنے پر کہ کیسے تشریف لائے ہو کہنے لگے کہ وطن جا رہا ہوں اور مرزا صاحب سے آخری ملاقات کرنے آیا ہوں۔چنانچہ سید ھے حضرت مسیح موعود کے پاس چلے گئے اور تھوڑی دیر تک آپ کے پاس بیٹھ کر رخصت ہوئے۔مگر جیسا کہ اوپر بتایا گیا ہے خود حضرت مسیح موعود کے لئے یہ ملازمت کا زمانہ اور اس سے پہلے مقدمات کی پیروی کا زمانہ نہایت دو بھر تھا چنانچہ اس زمانہ کے متعلق آپ لکھتے ہیں:۔” میرے والد صاحب اپنے بعض آباؤ اجدا کے دیہات کو دوبارہ لینے کے لئے انگریزی عدالتوں میں مقدمات کر رہے تھے۔انہوں نے ان ہی مقدمات میں مجھے بھی لگایا اور ایک زمانہ دراز تک میں ان کاموں میں مشغول رہا۔مجھے افسوس