سلسلہ احمدیہ — Page 184
۱۸۴ کے مقابلہ پر اسلام کی اس شاندار مدافعت کا جواس کی ذات کے ساتھ وابستہ تھی خاتمہ ہو گیا۔ان کی یہ خصوصیت کہ وہ اسلام کے مخالفین کے برخلاف ایک فتح نصیب جرنیل کا فرض پورا کرتے رہے ہمیں مجبور کرتی ہے کہ اس احساس کا کھلم کھلا اعتراف کیا جائے۔میرزا صاحب کا لٹریچر جو مسیحیوں اور آریوں کے مقابلہ پر ان سے ظہور میں آیا قبول عام کی سند حاصل کر چکا ہے اور اس خصوصیت میں وہ کسی تعارف کے محتاج نہیں۔اس لٹریچر کی قدر و عظمت آج جبکہ وہ اپنا کام پورا کر چکا ہے ہمیں دل سے تسلیم کرنی پڑتی ہے آئندہ امید نہیں کہ ہندوستان کی مذہبی دنیا میں اس شان کا شخص پیدا ہو۔وو لاہور کے مشہور غیر احمدی رسالہ تہذیب النسوان کے ایڈیٹر صاحب نے لکھا:۔مرزا صاحب مرحوم نہایت مقدس اور برگزیدہ بزرگ تھے اور نیکی کی ایسی قوت رکھتے تھے جو سخت سے سخت دل کو تسخیر کر لیتی تھی۔وہ نہایت باخبر عالم۔بلند ہمت مصلح اور پاک زندگی کا نمونہ تھے۔ہم انہیں مذہبا مسیح موعود تو نہیں مانتے لیکن 66 ان کی ہدایت اور رہنمائی مردہ روحوں کے لئے واقعی مسیحائی تھی۔“ ہے لاہور کے اخبار ” آریہ پتر کا“ کے ایڈیٹر صاحب نے لکھا:۔عام طور پر جو اسلام دوسرے مسلمانوں میں پایا جاتا ہے اس کی نسبت مرزا صاحب کے خیالات اسلام کے متعلق زیادہ وسیع اور زیادہ قابل برداشت تھے۔مرزا صاحب کے تعلقات آریہ سماج سے کبھی بھی دوستانہ نہیں ہوئے اور جب ہم آریہ سماج کی گزشتہ تاریخ کو یاد کرتے ہیں تو ان کا وجود ہمارے سینوں میں بڑا جوش پیدا کرتا ہے۔۳۔لاہور کے آریہ اخبار ”اندر“ نے لکھا:۔اخبار وکیل امرتسر ۲ - تہذیب النسوان لاہور سے۔اخبار آریہ پتر کالا ہوں۔