سلسلہ احمدیہ — Page 185
۱۸۵ مرزا صاحب اپنی ایک صفت میں محمد صاحب سے بہت مشابہت رکھتے تھے اور وہ صفت ان کا استقلال تھا خواہ وہ کسی مقصود کو لے کر تھا اور ہم خوش ہیں کہ وہ آخری دم تک اس پر ڈٹے رہے اور ہزاروں مخالفتوں کے باوجود ذرا بھی لغزش نہیں کھائی۔الہ آباد کے انگریزی اخبار پائنیر نے لکھا:۔اگر گزشتہ زمانہ کے اسرائیلی نبیوں میں سے کوئی نبی عالم بالا سے واپس آ کر اس زمانہ میں دنیا میں تبلیغ کرے تو وہ بیسویں صدی کے حالات میں اس سے زیادہ غیر موزوں معلوم نہ ہو گا جیسا کہ مرزا غلام احمد صاحب قادیانی تھے۔مرزا صاحب کو اپنے دعوی کے متعلق کبھی کوئی شک نہیں ہوا اور وہ کامل صداقت اور خلوص کے ساتھ اس بات کا یقین رکھتے تھے کہ ان پر کلام الہی نازل ہوتا ہے اور یہ کہ انہیں ایک خارق عادت طاقت بخشی گئی ہے۔ایک دفعہ انہوں نے بشپ ویلڈن کے کو چیلنج دیا (جس نے اسے حیران کر دیا) کہ وہ نشان نمائی میں ان کا مقابلہ کرے اور مرزا صاحب اس بات کے لئے تیار تھے کہ حالات زمانہ کے ماتحت بشپ صاحب جس طرح چاہیں اپنا اطمینان کر لیں کہ نشان دکھانے میں کوئی فریب اور دھوکا استعمال نہ ہو۔۔۔۔وہ لوگ جنہوں نے مذہبی میدان میں دنیا کے اندر حرکت پیدا کر دی ہے وہ اپنی طبیعت میں انگلستان کے لارڈ بشپ کی نسبت مرزا غلام احمد صاحب سے بہت زیادہ مشابہت رکھتے ہیں۔بہر حال قادیان کا نبی ان لوگوں میں سے تھا جو ہمیشہ دنیا میں نہیں آتے۔مسٹر والٹر ایم۔اے سیکرٹری آل انڈیا کرسچن ایسوسی ایشن نے اپنی انگریزی کتاب لے اخبار اندرلاہور ہے۔بشپ آف کلکته از ۱۸۹۸ء تا ۱۹۰۲، مگر غالباً یہ نام غلطی سے بشپ لیفر ائے آف لاہور کی جگہ لکھا ہے۔- اخبار پائنیر الہ آباد مورخه ۳۰ رمئی ۱۹۰۸ء