صفات باری تعالیٰ

by Other Authors

Page 112 of 153

صفات باری تعالیٰ — Page 112

عباد الرحمان کی خصوصیات یعنی انسان اپنی غلطی تسلیم کرنے کی بجائے مختلف قسم کی تاویلیں کر کے اپنے قصور پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتا ہے۔آپ کا مطلب یہ تھا کہ بجائے اس کے کہ وہ اپنی غلطی کا اعتراف کرتے انہوں نے یہ کیوں کہا کہ جب خدا کا منشاء ہوتا ہے کہ ہم نہ جاگیں تو پھر ہم سوئے رہتے ہیں اور اس طرح اپنی غلطی کو اللہ تعالیٰ کی طرف کیوں منسوب کیا۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ اگر رات کو میاں کی آنکھ کھلے اور وہ تہجد کے لئے اُٹھے تو اپنی بیوی کو بھی تہجد کے لئے جگائے۔اور اگر وہ نہ اٹھے تو اُس کے منہ پر پانی کا ہلکا سا چھینٹا دے اور اگر بیوی کی آنکھ کھل جائے اور اس کا میاں جگانے کے باوجود نہ اٹھے تو اس کے منہ پر پانی کا ہلکا سا چھینٹا دے۔آپ تہجد کی اہمیت پر اس قدر زور دیا کرتے تھے (سنن ابی داؤد كتاب الصلوۃ باب قیام اللیل ) کہ آپ نے فرما یا اللہ تعالیٰ رات کے آخری حصے میں بندوں کے قریب آجاتا ہے اور انکی دعاؤں کو دن کی نسبت بہت زیادہ قبول فرماتا ہے۔آپ نے ایک دفعہ فرمایا۔اللہ تعالیٰ نے مجھے بتایا ہے کہ انسان نوافل کے ذریعہ مجھ سے اتنا قریب ہو جاتا ہے کہ میں اُسکے کان ہو جاتا ہوں جن سے کہ وہ سُنتا ہے اُس کی آنکھیں ہو جاتا ہوں جن سے وہ دیکھتا ہے۔اُس کے ہاتھ ہو جاتا ہوں جن سے وہ پکڑتا ہے اور اُس کے پاؤں ہو جاتا ہوں جن سے وہ چلتا ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ رات کا اُٹھنا انسان کو اللہ تعالیٰ کے کتنا قریب کر دیتا ہے۔مگر افسوس ہے کہ اس زمانہ میں تہجد پڑھنے کی عادت بہت کم ہوگئی ہے۔حالانکہ اللہ تعالیٰ نے عباد الرحمن کی یہ ایک خاص خوبی بتائی ہے کہ وہ اپنی راتیں خدا تعالیٰ کے حضور سجدہ و قیام میں گزار دیتے ہیں۔مگر چونکہ یہ آیات مسلمانوں کے دور حکومت کی امتیازی خصوصیات کی بھی حامل ہیں اس لئے يَبِيتُونَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَ قِيَامًا - (الفرقان:۶۵) ۱۲