صفات باری تعالیٰ

by Other Authors

Page 113 of 153

صفات باری تعالیٰ — Page 113

۱۳ عباد الرحمان کی خصوصیات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مسلمانوں کو جب دنیا پر غلبہ حاصل ہوگا تو وہ عیش وعشرت میں منہمک نہیں ہونگے بلکہ اُن کی راتیں اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ و قیام کرتے ہوئے گذریں گی۔چنانچہ جب تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو ہمیں مسلمانوں کی اس امتیازی خصوصیت کا بھی نہایت واضح طور پر علم حاصل ہوتا ہے۔تاریخوں میں لکھا ہے کہ جب مسلمانوں کی روم کے ساتھ لڑائی ہوئی تو رومی جرنیل نے اپنا ایک وفد مسلمانوں کے حالات کا جائزہ لینے کے لئے بھیجا اور اُس نے کہا کہ تم مسلمانوں کے لشکر کو جا کر دیکھو اور پھر واپس آکر بتاؤ کہ اُن کی کیا کیفیت ہے۔وہ وفد اسلامی لشکر کا جائزہ لے کر واپس گیا تو اُس نے کہا کہ ہم مسلمانوں کو دیکھ کر آئے ہیں۔وہ ہمارے مقابلہ میں بہت تھوڑے ہیں مگر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ کوئی جن ہیں کیونکہ ہم نے دیکھا کہ وہ دن کو لڑتے ہیں اور رات کو تہجد پڑھنے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ہمارے سپاہی جو دن بھر کے تھکے ماندے ہوتے ہیں وہ تو رات کوشرا ہیں پیتے اور ناچ گانے میں مشغول ہو جاتے ہیں اور جب ان کاموں سے فارغ ہوتے ہیں تو آرام سے سو جاتے ہیں۔مگر وہ لوگ کوئی عجیب مخلوق ہیں کہ دن کولڑتے ہیں اور راتوں کو اُٹھ اُٹھ کر خدا تعالیٰ کی عبادت کرتے اور اُس کا ذکر کرتے ہیں۔ایسے لوگوں سے لڑنا بے فائدہ ہے۔چنانچہ دیکھ لو۔اس ذکر الہی کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ بھی آسمان سے اُن کی مدد کے لئے اُترا اور اُس نے انہیں بڑی بڑی طاقتور حکومتوں پر غالب کر دیا۔عرب کی ساری آبادی ایک لاکھ اپنی ہزار تھی مگر انہوں نے روم جیسے ملک سے ٹکر لے لی جس کی بیس کروڑ آبادی تھی۔پھر انہوں نے کسری کے ملک پر حملہ کر دیا اس کی آبادی بھی ہیں تیس کروڑ تھی۔گویا پچاس کروڑ کی آبادی رکھنے والے ملک پر ایک لاکھ اسی ہزار کی آبادی