صفات باری تعالیٰ

by Other Authors

Page 58 of 153

صفات باری تعالیٰ — Page 58

صفات باری تعالى يعنى الأسماء الحسنى ۵۸ چاند کو کل دیکھ کر میں سخت بے کل ہو گیا کیونکہ کچھ کچھ تھا نشاں اس میں جمال یار کا ہے عجب جلوہ تیری قدرت کا پیارے ہر طرف جس طرف دیکھیں وہی راہ ہے تیرے دیدار کا چشمہ خورشید میں موجیں تیری مشہور ہیں ہر ستارے میں تماشہ ہے تیری چمکار کا کیا عجب تو نے ہراک ذرہ میں رکھے ہیں خواص کون پڑھ سکتا ہے سارا دفتر ان اسرار کا تیری قدرت کا کوئی بھی انتہا پاتا نہیں کس سے کھل سکتا ہے بیچ اس عقدہ دشوار کا سرمه چشم آریہ روحانی خزائن جلد نمبر ۲ صفحه ۵۲) ایک عارف باللہ انسان سارے عالم میں اسرار خداوندی کے کھوج نکالتا ہے اور اسے محبوب از لی اور معشوق حقیقی کے انوار ہر طرف بکھرے ہوئے نظر آتے ہیں۔کبھی چاند کی دلکشی اور رونق اسے اپنے پیارے کی یاد دلاتی ہے اور بے چین کر دیتی ہے کیونکہ اسے اس حسن کے پیچھے ایک اور حسین تر کا جلوہ نظر آتا ہے۔پھر وہ ستاروں کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو ہر ستارے میں اس کی چہکار دکھائی دیتی ہے پھر سورج چڑھتا ہے تو اس کی تمازت اور حدت میں اپنے محبوب کے وجود کی گرمی محسوس ہوتی ہے اور اس کے رگ وریشہ کو مستی سے سرشار کر دیتی ہے۔اس سے تب کا ئنات کے ہر ذرہ میں اپنے محبوب کے پیدا کردہ دو خواص دکھائی دیتے ہیں جن کی کنہ تک پہنچنا ناممکن ہے۔وہ اپنے لاثانی و لافانی دلبر یگانہ کی بے پایاں قدرتوں کے ان رازوں کو جب اپنی روحانی آنکھ سے دیکھتا اور روحانی احساسات سے محسوس کرتا ہے تو اس کی روح پکار اٹھتی ہے