صفات باری تعالیٰ

by Other Authors

Page 55 of 153

صفات باری تعالیٰ — Page 55

یعنی الأسماء الحسنى ۵۶ - الْبَصِيرُ بہت دیکھنے والا، نظر رکھنے والا ، بینا۔یہ اسم کم و بیش ۲۴ مرتبہ بطور صفت الہی استعمال ہوا ہے۔فرمایا: اِنَّ اللهَ بَصِيرٌ بِالْعِبَادِ - (المؤمن: ۴۵) اللہ اپنے بندوں پر نظر رکھنے والا ہے۔اس کی آبزرویشن اور اس کا نظر میں رکھنا اور نظر انداز نہ کر دینا بھی اس کی رحمانیت کے تحت ایک احسان عظیم ہے۔۵۷ ۵ - الشافي شفاء دینے والا ،جسمانی اور روحانی امراض سے نجات دینے والا۔قرآن کریم میں فرمایا وَإِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِينِ - (الشعراء: ۸۱) حضرت ابراہیم علیہ السلام کا اقرار ہے کہ جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی ہے جو اپنے فضل سے شفاء دیتا ہے۔مرض کے پیدا ہونے کا سبب انسان کی کوئی غفلت یا بد پرہیزی ہوتی ہے لیکن شفاد بنا، دوائی میں تا ثیر رکھنا یہ خدا تعالیٰ کے فضل پر منحصر ہے۔۵۸- الْمَوْلى دوست ،سر پرستی کرنے والا ، کاموں کا کارساز ، مالک ، آقا۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: فَنِعْمَ الْمَوْلَى وَنِعْمَ النَّصِيرُ - (الحج: ٧٩) ولی، والی اور مولیٰ ایک اسم کی مختلف شکلیں ہیں۔مولیٰ کا لفظ جہاں بھی قرآن شریف میں آیا ہے وہاں علی العموم نصرت الہی کا ذکر ضرور آیا ہے۔اور نصرت الہی اس کا احسان ہے۔جو صفت رحمانیت کے تحت وہ فرماتا ہے۔