صفات باری تعالیٰ — Page 54
یعنی الأسماء الحسنى علیہ السلام کو فرمایا۔إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا اے ابراہیم میں تجھے لوگوں کا امام بنانے والا ہوں خلیفہ اللہ کی شکل میں ہو یا خلیفتہ النبی کی شکل میں۔خلافت ایک بہت بڑا احسان ہے۔انسان کی پیدائش کی غرض اس کے ذریعہ سے پوری ہوتی ہے اور دنیا میں پھر عارف باللہ انسان ۵۴ پیدا ہونے لگتے ہیں۔۵۳۔اَلسَّلَامُ تمام نقصانات سے محفوظ ، سلامتی کا سر چشمہ اور امن بخشنے والا۔اصل میں یہ مصدر ہے بمعنی سلامت لیکن اسماء الہی میں یہ سالم کے معنوں میں آتا ہے۔یعنی وہ ذات پاک جو ہر قسم کے عیب اور نقصان سے محفوظ ہے اور سلامتی بخشنے والی ہے۔۵۴ - الْمُؤْمِنُ اپنے عذاب سے اور ہر قسم کے دکھوں اور مصیبتوں سے امن بخشنے والا۔اپنے کمالات توحید پر دلائل قائم کرنے والا۔تمام صداقتوں کو ماننے والا۔اپنے وعدوں میں سچا۔لفظ مومن کا ماخذ امن ہے یا ایمان۔مگر امن اصل ہے تو مومن کے یہ معنی ہوئے امن دینے والا اور دنیا میں ہر قسم کے امن کو قائم کرنے والا۔دنیا کو عذاب عقبیٰ سے محفوظ رکھنے والا۔اگر ماخذ ایمان ہے تو مومن کے معنی ہوئے ایمانداروں کے ایمان کو باور کروانے والا۔امن و امان کا قیام اور اس کا استحکام انسانوں پر بہت بڑا احسان ہے۔۵- الْمُهَيْمِنُ سب کے اعمال کا محافظ، واقف، نگہبان اور گواہ۔دراصل الْمُؤْمِنُ اور الْمُهَيْمِنُ ایک ہی ہیں۔الْمُؤْمِنُ باب افعال سے ہے اور الْمُهَيْمِنُ باب مفاعلہ سے جو دراصل الْمُؤْمِنُ تھا۔یہ اسماء سورہ حشر کے آخر میں آئے ہیں۔