صفات باری تعالیٰ

by Other Authors

Page 50 of 153

صفات باری تعالیٰ — Page 50

یعنی الأسماء الحسنى والو۔اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور برکتیں تم پر ہوں۔بے شک وہ خداحمد کیا گیا اور بزرگی والا ہے۔۴۳۔اَلْمَاجِدُ بزرگی والا۔اس عالمین میں احسانات خدا وندی کے لامتناہی سلسلے جاری ہیں۔ایک طرف ذوالعطا کے جلوے ظاہر ہوتے ہیں اور دوسری طرف اس کی حمد اور مجد کے ترانے گائے جاتے ہیں۔فرمایا: ذوالعرش المجید۔وہ عرش کا مالک اور بزرگ شان والا ہے۔۴۴۔اَلْحَمِيدُ ہر قسم کی حمد و ثناء کا سزاوار۔فرمایا: وَكَانَ اللهُ غَنِيًّا حَمِيدًا۔(النساء: ۱۳۲) پھر فرمایا: وَيَنْشُرُ رَحْمَتَهُ وَهُوَ الْوَلِيُّ الْحَيْدُ (الشورى ۴۳) تَنْزِيلٌ مِنْ حَكِيمٍ حَمِيدٍ۔( حم السجدة : ۴۳) آسمان سے روحانی ( کلام الہی ) اور مادی بارش نازل کرنے والا ہے۔اس طرح زندگی دینے والا۔جس کی وجہ سے وہ حمد کا سزاوار ہے۔ہر طرف اس کی رحمت بکھری پڑی ہے اور رحمانیت کے تحت جلوہ گر ہے اور حمد وثناء کا باعث بن رہی ہے۔۴۵- الْغَنِيُّ ہر قسم کی ضرورتوں کا متکفل اور خود بے پرواہ۔فرمایا: 9۔791 وَاللَّهُ غَنِيٌّ حَلِيمٌ (البقرة: ۲۶۴) یہ صفت حلیم کریم اور حمید کے ساتھ آئی ہے۔بتایا وہ منی تو ہے۔مگر حلیم اور کریم بھی ہے اور ان تمام صفات کے جلوے اسے صفت حمید کا موصوف بھی بنادیتے ہیں۔