صفات باری تعالیٰ — Page 51
یعنی الأسماء الحسنى ٤٦- الْحَفِيظُ نگہبان۔چنانچہ فرمایا: إنَّ رَبِّي عَلَى كُلِّ شَيْءٍ حَفِيظٌ - (هود: ۵۸) یہ اسم سورۃ شوری اور سبا میں بھی آیا ہے۔خدا تعالیٰ نے شیاطین کے پیچھے شہاب ثاقب لگا دیئے ہیں تا کہ کچھ اچک کر نہ لے جائیں۔زمین کے گرد حفاظت کرنے والی فضا بنائی جو ہر داخل ہونے والی چیز کو جلا کر بھسم کر دیتی ہے۔تمام کائنات کو نظر نہ آنے والے ستونوں یعنی کشش ثقل میں باندھ دیا۔یہ سب اس کی حفاظت کے جلوے ہی تو ہیں جو اس کا حفیظ ہونا ۵۱ ثابت کر رہے ہیں۔۴۷۔اَلْحَافِظُ نگہبان اور حفاظت کرنے والا ، دینی اور دنیاوی ہلاکت کے اسباب سے بچانے والا۔آیت الکرسی میں فرمایا : وَلَا يَئُودُهُ حِفْظُهُمَا۔(البقرة : ۲۵۶) اور ان دونوں ( آسمان اور زمین ) کی حفاظت اسے تھکاتی نہیں۔اسی طرح فرمایا: وَحَفِظْنَاهَا مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ رَجِيْمٍ - (الحجر: ۱۸) اور اس کی ہم نے ہر ایک دھتکارے ہوئے شیطان سے حفاظت کی ہے۔اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلالہ یہ تم کو اپنی حفاظت میں لے لیا اور فرمایا: وَاللهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ (المائدة : ۱۱۸) کہ لوگوں سے مجھے محفوظ رکھوں گا۔اور آپ کے روحانی فرزند علیہ السلام کو فرمایا: إِنِّي أَحَافِظُ كُلَّ مَنْ فِي الدَّارِ۔کشتی نوح روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه (۱۴)