صفات باری تعالیٰ

by Other Authors

Page 32 of 153

صفات باری تعالیٰ — Page 32

یعنی الأسماء الحسنى کمزوری سے بچاوے۔اپنی طاقت سے طاقت بخشے اور اپنے علم سے علم عطا کرے اور اپنی روشنی سے روشنی دے کیونکہ خدا انسان کو پیدا کر کے اس سے الگ نہیں ہوا۔بلکہ وہ جیسا کہ انسان کا خالق ہے اور اس کے تمام قومی اندرونی اور بیرونی کا پیدا کرنے والا ہے ویسا ہی وہ انسان کا قیوم بھی ہے یعنی جو کچھ بنایا ہے۔اس کو خاص اپنے سہارے سے محفوظ رکھنے والا۔“ ریویو آف ریجنز اردو جلد اول صفحہ ۱۹۲ - ۱۹۳) ۱۶ - اَلْمُحْى ۳۲ مخلوق کو زندگی عطا کرنے والا۔جیسا کہ فرمایا: إِنَّ ذلِكَ لَمُحْيِ الْمَوْتَى وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (الروم : ۵۱) یہی خدا ہے جو قیامت کے دن مردوں کو زندہ کرے گا اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔اور اسی طرح روحانی مردوں کو بھی اپنا رسول بھیج کر زندہ کرتا ہے۔ہمارے زمانہ میں خدا تعالیٰ کی اس صفت کے مظہر بیان فرماتے ہیں: ایک مرتبہ الہام ہوا جس کے معنی یہ تھے کہ ملاء اعلیٰ کے لوگ خصومت میں ہیں۔یعنی ارادہ الہی احیاء دین کے لئے جوش میں ہے لیکن ھنوز ملاء اعلیٰ پر شخص محیی کی تعین ظاہر نہیں ہوئی اس لئے وہ اختلاف میں ہے۔اسی اثناء میں خواب میں دیکھا کہ لوگ ایک میسی کو تلاش کرتے پھرتے ہیں اور ایک شخص اس عاجز کے سامنے آیا اور اشارہ سے اس نے کہا هَذَا رَجُلٌ يُحِبُّ رَسُولِ اللہ یعنی یہ وہ آدمی ہے جو رسول اللہ سے محبت رکھتا ہے اور اس قول سے یہ مطلب تھا کہ شرط اعظم اس عہدہ کی محبت رسول ہے سو وہ اس شخص میں محقق ہے۔پس حضرت ابراہیم کی اولاد میں چار بار احیاء موتی کا نظارہ ظاہر ہوا۔ایک بار حضرت موسیٰ علیہ السلام پھر حضرت عیسی علیہ السلام کے ذریعہ اور پھر آنحضرت صلی ال پیہم کے ذریعہ اور آج آپ کے روحانی فرزند حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ یہ سلسلہ احیاء موتی کا خلافت علی