صفات باری تعالیٰ

by Other Authors

Page 31 of 153

صفات باری تعالیٰ — Page 31

یعنی الأسماء الحسنى ۱۴ - الأكْرَمُ ۳۱ معزز۔ہر قسم کی بزرگیوں اور بڑائیوں کا سر چشمہ اور معزز ہے اور مکرم بنانے والا۔فرمایا : اِقْرَأْ وَ رَبُّكَ الْأَكْرَمُ (العلق : ۴) قرآن کو پڑھ کر سنا تارہ کیونکہ تیرا رب بڑا معزز ہے، بڑا کریم ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللهِ أَتْقَاكُمُ (الحجرات : ۱۴) وہ متقیوں پر اس کی صفت کے جلوے ظاہر فرماتا ہے اور وہ بھی معزز ہو جاتے ہیں۔۱۵ - اَلغَفَّارِ بہت بخشنے والا ، ڈھانکنے والا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: رَبُّ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا الْعَزِيزُ الْغَفَّارُ ( ص : ٦٧) آسمانوں اور زمین کا رب ہے اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے اس پر وہ غالب ہے اور اس کے باوجود بخشنے والا ہے۔پھر فرمایا: وَإِنِّي لَغَفَّارُ لِمَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهْتَدَى (طه: ۸۳) اور جو شخص تو بہ کرے اور ایمان لائے پھر مناسب حال عمل بھی کرے اور ہدایت پا جائے تو میں اس کے بڑے سے بڑے گناہ معاف کر دیا کرتا ہوں۔یعنی اس کی استغفار قبول کر لیتا ہوں۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں: یہ لفظ غَفَرَ سے لیا گیا ہے جو ڈھانکنے کو کہتے ہیں۔اصل اور حقیقی معنے یہی ہیں کہ خدا اپنی خدائی کی طاقت کے ساتھ مستغفر کو جو استغفار کرتا ہے فطرتی