صفات باری تعالیٰ — Page 33
یعنی الأسماء الحسنى منہاج نبوت کے ذریعہ سے جاری ہے۔اور اب قیامت تک چلتا چلا جائے گا۔انشاء الله ا - الحى خودزندہ اور دوسروں کی زندگی کا باعث اور موجب۔خدا تعالیٰ جوحی لا یموت ہے۔جو اس کے ساتھ جوڑتا ہے صفت کی کی جلوہ گاہ بن جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ایک دفعہ کشفی رنگ میں میں نے دیکھا کہ میں نے نئی زمین اور نیا آسمان پیدا کیا ہے اور پھر میں نے کہا کہ آؤاب انسان کو پیدا کریں۔اس پر نادان مولویوں نے شور مچایا کہ دیکھو اب اس شخص نے خدائی کا دعوی ہے کیا حالانکہ اُس کشف سے یہ مطلب تھا کہ خدا میرے ہاتھ پر ایک ایسی تبدیلی پیدا کرے گا کہ گویا آسمان اور زمین نئے ہو جائیں گے۔اور حقیقی انسان پیدا ۳۳ ہوں گے۔“ ۱۸ - اَلْقَيُّومُ چشمه مسیحی روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۷۶) خود قائم اور دوسروں کے قیام کا حقیقی ذریعہ۔فرمایا: الم - اللهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ - (آل عمران: ۲-۳) میں اللہ سب سے زیادہ جاننے والا ہوں۔اللہ ایسی ذات ہے کہ اس کے سوا کوئی پرستش کا مستحق نہیں۔کامل حیات والا اور اپنی ذات میں قائم اور سب کو قائم رکھنے والا ہے۔پھر فرمایا: وَتَوَكَّلْ عَلَى الْحَينِ الَّذِي لَا يَمُوتُ - (الفرقان: ۵۹) اور اس پر توکل کر جو خودزندہ ہے اور سب کو زندہ رکھتا ہے۔کبھی نہیں مرتا۔هُوَ الْحَيُّ لَا إِلَهَ إِلا هُوَ - (المومن : ٦٦)