صفات باری تعالیٰ — Page 10
یعنی الأسماء الحسنى پہلی اُم الصفات ربوبیت کا فیضان یہ وہ فیضان مطلق ہے کہ جو بلاتمیز ذی روح وغیر ذی روح افلاک سے لے کر خاک تک تمام چیزوں پر علی الا تصال جاری ہے اور ہر یک چیز کا عدم سے صورت وجود پکڑنا اور پھر وجود کا حد کمال تک پہنچنا اسی فیضان کے ذریعہ سے ہے۔اور کوئی چیز جاندار ہو یا غیر جاندار اس سے باہر نہیں۔اسی سے وجود تمام ارواح واجسام ظہور پذیر ہوا اور ہوتا ہے اور ہر یک چیز نے پرورش پائی اور پاتی ہے۔یہی فیضان تمام کائنات کی جان ہے اگر ایک لمحہ منقطع ہو جائے تو تمام عالم نابود ہو جائے۔اور اگر نہ ہوتا تو مخلوقات میں سے کچھ بھی نہ ہوتا۔اس کا نام قرآن شریف میں ربوبیت ہے۔اور اسی کی رو سے خدا کا نام رب العالمین ہے۔جیسا کہ اس نے دوسری جگہ بھی فرمایا ہے۔وَهُوَ رَبُّ كُلِّ شَيني - (الانعام: ۱۶۵) یعنی خدا ہر یک چیز کا رب ہے اور کوئی چیز عالم کی چیزوں میں سے اس کی ربوبیت میں سے باہر نہیں۔رسول خدا نے سورۃ فاتحہ میں سب صفات فیضانی میں سے پہلے صفت رب العالمین کو بیان فرما یا۔دوسری اُم الصفات رحمانیت کا فیضان دوسراقم فیضان کا جو دوسرے مرتبہ پر واقع ہے۔۔۔۔یہ ایک خاص عنایت از لیہ ہے جو جانداروں کے حال پر مبذول ہے یعنی ذی روح چیزوں کی طرف حضرت باری کی جو ایک خاص توجہ ہے، اس کا نام فیضان عام ہے۔اور اس فیضان کی یہ تعریف ہے کہ یہ بلا استحقاق اور بغیر اس کے کہ کسی کا کچھ حق ہو سب ذی روحوں پر حسب حاجت ان کے جاری ہے۔کسی کے عمل کا پاداش نہیں۔اور اسی فیضان کی برکت سے ہر یک جاندار جیتا جاگتا، کھاتا پیتا اور آفات سے محفوظ اور ضروریات سے متمتع نظر آتا ہے اور ہر یک ذی روح کے لئے تمام اسباب