صفات باری تعالیٰ — Page 11
یعنی الأسماء الحسنى زندگی کے جو اس کے لئے یا اس کے نوع کے بقا کے لئے مطلوب ہیں میسر نظر آتے ہیں اور یہ سب آثار اسی فیضان کے ہیں کہ جو کچھ روحوں کو جسمانی تربیت کے لئے درکار ہے۔سب کچھ دیا گیا ہے۔اور ایسا ہی جن روحوں کو علاوہ جسمانی تربیت کے روحانی تربیت کی بھی ضرورت ہے یعنی روحانی ترقی کی استعداد رکھتے ہیں۔ان کے لئے قدیم سے عین ضرورتوں کے وقتوں میں کلام الہی نازل ہوتا رہا ہے۔غرض اسی فیضانِ رحمانیت کے ذریعہ سے انسان اپنی کروڑ ہا ضروریات پر کامیاب ہے۔سکونت کے لئے سطح زمین، روشنی کے لئے چاند اور سورج ، دم لینے کے لئے ہوا، پینے کے لئے پانی، کھانے کے لئے انواع اقسام کے رزق اور علاج امراض کے لئے لاکھوں طرح کی ادویہ اور پوشاک کے لئے طرح طرح کی پوشیدنی چیزیں اور ہدایت پانے کے لئے صحف ربانی موجود ہیں اور کوئی یہ دعوی نہیں کر سکتا کہ یہ تمام چیزیں میرے عملوں کی برکت سے پیدا ہو گئیں ہیں۔۔۔۔پس ثابت ہے کہ یہ فیضان جو ہزار باطور پر ذی روحوں کے آرام کے لئے ظہور پذیر ہو رہا ہے یہ عطیہ بلا استحقاق ہے جو کسی عمل کے عوض میں نہیں فقط ربانی رحمت کا ایک جوش ہے تاہر یک جاندار اپنے فطرتی مطلوب کو پہنچ جائے اور جو کچھ اس کی فطرت میں حاجتیں ڈالی گئیں وہ پوری ہو جائیں۔پس اس فیضان میں عنایت از لیہ کا کام یہ ہے کہ انسان اور جمیع حیوانات کی ضروریات کا تعہد کرے اور ان کی بائیست اور نا بائیست کی خبر رکھے تا وہ ضائع نہ ہو جائیں اور ان کی استعداد میں چیز کتمان میں نہ رہیں اور اس صفت فیضانی کا خدائے تعالیٰ کی ذات میں پایا جانا قانون قدرت کے ملاحظہ سے نہایت بدیہی طور پر ثابت ہو رہا ہے کیونکہ کسی عاقل کو اس میں کلام نہیں کہ جو کچھ چاند اور سورج اور زمین اور عناصر وغیرہ ضروریات دنیا میں پائی جاتی ہیں جن پر تمام ذی روحوں کی زندگی کا مدار ہے اسی فیضان کے اثر سے ظہور پذیر ہیں اور ہر یک متنفس بلا تمیز انسان و حیوان و مومن و کافرونیک و بد حسب حاجت اپنے ان فیوض مذکورہ بالا سے مستفیض ہو رہا ہے اور کوئی ذی روح اس سے محروم نہیں اور اس فیضان کا نام قرآن شریف میں رحمانیت ہے۔“ 11